عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کے صدر
اور انڈونیشی سفیر کے درمیان اسلامی یکجہتی کے فروغ اور امت کے مسائل کی حمایت پر
تبادلۂ خیال
محترم شیخ ڈاکٹر
علی محی الدین قرہ داغی، صدر عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز، نے پیر کے روز 16
جون 2025 کو، قطر میں جمہوریہ انڈونیشیا کے سفیر محترم رضوان حسن اور ان کے ہمراہ
وفد کا خیرمقدم کیا۔ یہ ملاقات باہمی احترام اور قدر و منزلت کے ماحول میں منعقد
ہوئی۔
ملاقات میں اتحاد کے سیکرٹری جنرل محترم شیخ ڈاکٹر علی
الصلابی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب ولید الحیدری، اور مستقبل بینی و اسٹریٹجک منصوبہ
بندی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر فہمی اسلام بھی شریک تھے۔
انڈونیشی وفد میں شامل افراد میں جناب ایوان بولونتالو
(ثقافتی و تعلیمی امور کے نگران)، جناب واسانا آدی (معاشی امور کے نگران) اور جناب
علی فکر مبارک (سفیر کے سیکریٹری) شامل تھے۔
وفد کا خیرمقدم اور اتحاد کی خدمات کا
تعارف
ملاقات کے آغاز میں صدرِ اتحاد نے وفد کا پُر تپاک
استقبال کیا اور اتحاد کا جامع تعارف پیش کیا۔ انہوں نے اتحاد کے ڈھانچے، ذیلی کمیٹیوں،
شاخوں، علمی و فکری سرگرمیوں، علماء کی تربیت، اعتدال پسند اسلامی فکر کے فروغ،
اور امت کے مختلف مکاتب فکر کے مابین مکالمے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ اتحاد اب عالمی سطح
پر ایک معتبر اسلامی علمی و فکری مرجع کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس میں دنیا کے
درجنوں ممالک کے علماء شامل ہیں۔
باہمی تحسین اور اسلامی یکجہتی پر زور
صدرِ اتحاد نے موجودہ حالات میں اسلامی اتحاد و یکجہتی کی
ضرورت پر زور دیا، اور انسانی مسائل خصوصاً مسئلہ فلسطین کی حمایت کو وقت کی اہم
ترین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے انڈونیشیا کی حکومت و عوام کے امت کے مسائل بالخصوص
فلسطین کے حق میں جاندار مؤقف کو سراہا۔
سفیر رضوان حسن نے اتحاد کی قیادت کی طرف سے پُرتپاک
استقبال پر شکریہ ادا کیا اور اس کے عالمی اسلامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے
ہوئے کہا کہ اس کردار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
امت کے مسائل میں انڈونیشیا کے ثابت قدم
کردار کا تذکرہ
سفیر نے انڈونیشیا کے قیادت کے مستقل کردار کا ذکر کرتے
ہوئے کہا کہ فلسطین سے متعلق انڈونیشیا کا مؤقف قیادتوں یا حکومتوں کے بدلنے سے
کبھی تبدیل نہیں ہوا بلکہ وہ مسلسل قائم و دائم رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کی بڑی اسلامی تنظیمیں ایسے
رہنماؤں کی تربیت گاہ رہی ہیں جنہوں نے ملک کی قیادت سنبھالی، اور ان تنظیموں کے
تحت ہزاروں مدارس، جامعات اور دینی ادارے کام کر رہے ہیں جو دینی، علمی اور سماجی
ترقی کا بڑا ذریعہ ہیں۔
انہوں نے انڈونیشیا کی معاشی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی
اور بتایا کہ حکومت سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے درمیان توازن قائم رکھے
ہوئے ہے، اور ملک میں اسلامی بینکاری کی شاخیں بھی موجود ہیں، جو اسلامی معیشت کی
ترقی کی علامت ہیں۔
علمی و دعوتی تعاون کو فروغ دینے پر
تبادلۂ خیال
ملاقات میں دونوں فریقین نے شریعت، علومِ اسلامیہ، دعوت
اور علمی میدانوں میں باہمی تعاون کو بڑھانے پر بات کی، اور اس پر اتفاق کیا کہ
امتِ مسلمہ کے مفاد میں مشترکہ عمل ضروری ہے۔
علمی تحائف اور مضبوط تعلقات کا اظہار
ملاقات کے اختتام پر صدرِ اتحاد نے سفیر کو اپنی کتاب
"فقہ الميزان" کا تحفہ پیش کیا، ساتھ ہی اتحاد کی تازہ علمی مطبوعات بھی
عنایت فرمائیں۔ سیکرٹری جنرل محترم شیخ علی الصلابی نے بھی اپنی تصانیف کا انڈونیشی
ترجمہ شدہ مجموعہ بطور تحفہ پیش کیا، جو دونوں فریقوں کے درمیان علمی و ثقافتی ربط
کی گہرائی کا مظہر ہے۔
(ماخذ: عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية،
اضغط (هنا).