بیلجیم نے فلسطین
کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد اسرائیل پر پابندیاں نافذ کرنے کا اعلان
بیلجین حکام غیر قانونی بستیوں میں
رہائش پذیر شہریوں کے لیے قونصلر خدمات کو محدود کریں گے اور وہاں رہنے والے اسرائیلیوں
کو طویل مدتی ویزا (ٹائپ ڈی) دینے سے انکار کے طریقے تلاش کریں گے۔
بیلجیم نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد اسرائیل
پر پابندیاں نافذ کرنے کا اعلان
بلجیم فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور
آسٹریلیا کی پیروی کر رہا ہے، جنہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ آنے والی اقوام
متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو تسلیم کریں گے۔
بیلجیم نے غزہ میں اسرائیل کی نسل
کشی کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں
عمومی پابندیاں، اسلحے کی برآمد ات پر وسیع پابندی اور مقبوضہ علاقوں میں
اسرائیلی غیر قانونی بستیوں میں تیار کردہ اشیاء اور خدمات کی درآمد پر پابندی
شامل ہیں۔
حکام کے بیان کے مطابق محدود وزارتی کونسل کی طرف سے
منظور کردہ یہ معاہدہ ، اسرائیل پر
دباؤ بڑھانے اور فلسطین میں جاری انسانی المیے کو حل کرنے کے لیے کیا گیا ہے ۔
اسرائیل کے دائیں بازو کے وزراء،
اتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ، کے ساتھ ساتھ حماس کی سیاسی اور عسکری قیادت کو
بیلجیم میں ناپسندیدہ شخصیات قرار دیا جائے گا۔ ان کے نام شینگن انفارمیشن سسٹم (SIS) میں شامل کیے جائیں گے۔
بیلجین حکام غیر قانونی بستیوں میں
رہائش پذیر شہریوں کے لیے قونصلر خدمات کو محدود کریں گے اور وہاں رہنے والے اسرائیلیوں
کو طویل مدتی ویزا (ٹائپ ڈی) دینے سے انکار کے طریقے تلاش کریں گے۔
بیلجیم کے وفاقی پراسیکیوٹر کے
دفتر کو بھی یہ ذمہ داری دی جائے گی کہ وہ ان بیلجیم شہریوں کے خلاف کارروائی کرے
جو اسرائیل یا مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف
ورزیوں میں ملوث ہوں۔
حکومت نے اسرائیل کو اسلحے کی
برآمد اور منتقلی پر موجودہ پابندی کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تمام فوجی
سامان اور دوہری استعمال کی اشیاء شامل ہوں، اور یورپی یونین پر مکمل پابندی کے لیے
دباؤ ڈالنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
ایک شاہی فرمان کے ذریعے غیر
قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے گی،
جو آئرلینڈ اور سلووینیا کے پہلے سے کیے گئے اقدامات کی عکاسی کرتی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ جاری قتل و
غارت کے دوران اسرائیلی فوجی پروازوں کی درخواستوں کو مسترد کرے گی اور اسرائیلی
دفاعی سامان پر انحصار کم کرے گی۔
شوشل میڈیا.