بحث وتحقیق

تفصیلات

عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کی جانب سے رمضان کے دوران مسجدِ اقصیٰ میں خطرناک کشیدگی کے خدشے پر انتباہ اور اس کے تحفظ کے لیے فوری اقدام کی اپیل

عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کی جانب سے رمضان کے دوران مسجدِ اقصیٰ میں خطرناک کشیدگی کے خدشے پر انتباہ اور اس کے تحفظ کے لیے فوری اقدام کی اپیل

 

(پریس بیان)

دوحہ: 18 رمضان 1447ھ

بمطابق: 7 مارچ 2026ء

 

عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر علی محمد الصلابی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماہِ رمضان المبارک اطاعت و عبادت کا عظیم موسم ہے، جس میں ایمان و تقویٰ کے معانی تازہ ہوتے ہیں اور مسلمانوں کی زندگی میں مساجد کی حیثیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ مساجد ہدایت اور عبادت کے مراکز ہیں، اور ان میں سرفہرست مسجدِ اقصیٰ مبارک ہے جو امتِ مسلمہ کے عقیدہ، تاریخ اور اجتماعی شعور میں نہایت عظیم دینی مقام رکھتی ہے۔

اقصیٰ امت کے دل میں

انہوں نے اس اپیل کی طرف بھی توجہ دلائی جو عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کے صدر نے جاری کی ہے، جس میں ریاستوں کے سربراہان، مفکرین، علماءِ امت اور تمام مسلم عوام سے فوری اور سنجیدہ اقدام کی اپیل کی گئی ہے تاکہ مسجدِ اقصیٰ کو درپیش خطرات سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں مسجدِ اقصیٰ شدید خطرات سے دوچار ہے، خصوصاً اس پس منظر میں کہ رمضان المبارک کے دوران اس کے دروازے مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔

خطرناک کشیدگی سے خبردار

انہوں نے واضح کیا کہ ان اقدامات کے تسلسل سے شدید تشویش پیدا ہو رہی ہے اور اندیشہ ہے کہ اس سے خطرناک کشیدگی جنم لے سکتی ہے، جو مسجدِ اقصیٰ کی حرمت اور اس کی دینی و تاریخی حیثیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس میں وہ کوششیں بھی شامل ہیں جن کے ذریعے مسجد کو منہدم کرنے یا اس کی شناخت تبدیل کرنے اور اس کی جگہ مبینہ ہیکل کی تعمیر کی بات کی جاتی ہے، جو مسلمانوں کی مقدس ترین عبادت گاہوں میں سے ایک پر سنگین حملہ شمار ہوگا۔

سیکریٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ مسجدِ اقصیٰ میں تراویح کی نماز اور رمضان کی راتوں کا قیام اس مسجد کی آبادکاری اور اس کے ساتھ مسلمانوں کے روحانی و قلبی تعلق کی زندہ علامت ہے۔ انہوں نے صہیونی ریاست کے ان اقدامات کی سخت مذمت کی جن کے ذریعے نمازیوں کو اس بابرکت مہینے میں مسجد تک پہنچنے سے روکا جا رہا ہے، جو اس مقدس مقام کی حرمت اور مذہبی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات عبادت کی آزادی اور مسلمانوں کے اپنے مقدسات تک رسائی کے بنیادی حق پر براہِ راست ضرب ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کریں تاکہ نمازیوں کو مسجدِ اقصیٰ تک آزادانہ رسائی اور اپنے مذہبی شعائر کی ادائیگی کا حق یقینی بنایا جا سکے۔

بیان کے اختتام پر سیکریٹری جنرل نے امتِ مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے مشترکہ موقف کو مضبوط کرے، اہلِ القدس اور فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کی حمایت میں اضافہ کرے اور مسجدِ اقصیٰ کے تحفظ اور آبادکاری کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام تر چیلنجوں اور جارحیت کے باوجود مسجدِ اقصیٰ کا مقام مسلمانوں کے دلوں میں ہمیشہ مضبوط اور قائم رہے گا۔ ﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ﴾ صدق الله العظيم

(ماخذ: عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز)

 

ـــــــــــــــــــــــــــ

* للاطلاع على الترجمة الكاملة للتصريح باللغة العربية، اضغط (هنا).




منسلکات

التالي
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کا امتِ مسلمہ اور پوری انسانیت کو مسجدِ اقصیٰ کے تحفظ کی دعوت، اور اسلامی ممالک و وزارتِ اوقاف سے آخری جمعہ کی خطبۂ جمعہ مسجدِ اقصیٰ کے حق میں وقف کرنے کا مطالبہ
السابق
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کا علامہ قاری فقیہ ڈاکٹر عبد الہادی حمیٹوؒ کے انتقال پر اظہارِ تعزیت

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں