"قافلۂ صمود" نسل کشی روکنے کا
عوامی پیغام ہے، جو بتاتا ہے کہ قوموں کی مرضی کو دبایا نہیں جا سکتا. جنرل سیکرٹری اتحادِ عالمی (بیان)
غزہ کی حمایت اور نسل کشی کی مذمت
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کے سیکرٹری جنرل محترم شیخ
ڈاکٹر علی الصلابی نے کہا ہے کہ "قافلۂ صمود" تیونس سے روانہ ہو کر
الجزائر، لیبیا اور مصر سے گزرتا ہوا غزہ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ قافلہ ایک باشعور
عوامی، تہذیبی پیغام لے کر جا رہا ہے جو فلسطینی کاز کی عدل و صداقت اور اس کی تقدیس
سے متعلق عوامی شعور کا اظہار کرتا ہے، اور جو مسلسل ظلم و نسل کشی کو مسترد کرتا
ہے جو قابض قوت کے ہاتھوں جاری ہے۔
جرائم پر خاموشی کی مذمت
ڈاکٹر صلابی نے واضح کیا کہ یہ قافلہ عوامی سطح پر ایک
متحرک پیغام ہے جو دنیا کو صاف الفاظ میں بتاتا ہے کہ قومیں غزہ میں جاری نسل کشی
پر خاموش نہیں رہیں گی، اور ان جرائم کے مقابلے میں خاموشی اب ناقابل قبول ہے، کیونکہ
یہ پورے خطے کے امن و عزت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
انسانی پیغام اور قبضے سے ملی بھگت کی مذمت
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قافلہ کا پیغام مکمل طور
پر انسانی ہے اور کسی عرب حکومت کو نشانہ نہیں بناتا، بلکہ یہ اس عوامی شعور کا
اظہار ہے کہ اگر قابض قوت کے جرائم کو نہ روکا گیا تو وہی کچھ دوسرے ممالک میں بھی
دہرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دنیا کے قائدین سے انصاف کی طرف لوٹنے اور ظلم کی حمایت
ترک کرنے کا مطالبہ کیا، اور خبردار کیا کہ قابض سے ملی بھگت اخلاقی اور سیاسی
رسوائی ہے۔
علمائے کرام کا کردار
ڈاکٹر صلابی نے کہا کہ فلسطینی عوام کو انصاف دینا ایک
انسانی فرض ہے، اس سے پہلے کہ وہ قانونی یا سیاسی مسئلہ ہو۔ انہوں نے امت کے
علمائے کرام اور اہل فکر و دانش کو دعوت دی کہ وہ اپنی قوموں اور ان کے عادلانہ
مسائل کے ساتھ کھڑے ہوں، اور فلسطینی مزاحمت کی شرعی حیثیت کو امت کے دلوں میں
راسخ کریں۔
انسانی اقدار کی پامالی کی مذمت
انہوں نے اس پر دکھ کا اظہار کیا کہ قابض قوت انسانی
اقدار کی مسلسل پامالی کر رہی ہے، اور زور دیا کہ عرب اقوام کو اس مسئلے میں مغربی
اقوام سے بڑھ کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے مغربی کارکنوں کی "مادلین"
کشتی کی کوشش کو سراہا، جو کہ عالمی خاموشی کو توڑنے کے لیے ایک قابل قدر اقدام
ہے۔
قوموں کی مرضی، قابض سے زیادہ طاقتور
آخر میں ڈاکٹر صلابی نے کہا کہ اگرچہ قابض کا ظلم طویل
ہو، آخرکار قومیں ہی فتح یاب ہوتی ہیں، کیونکہ ان کی مرضی، اللہ کی مرضی سے جڑی
ہوتی ہے۔ انہوں نے امت مسلمہ کو بیدار ہونے اور خاموشی توڑنے کی دعوت دی، خاص طور
پر ایسے وقت میں جب قبلۂ اول اور مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
قافلۂ صمود کی غزہ کی طرف پیش قدمی جاری
بدھ کی صبح "قافلۂ صمود" نے لیبیا کے شہر
الزاویہ سے اپنے سفر کا اگلا مرحلہ شروع کیا، جو طرابلس اور مصراتہ سے گزرتا ہوا
رفح بارڈر کی جانب روانہ ہے۔
یہ قافلہ تیونس کے دارالحکومت سے روانہ ہوا تھا، جس میں
مغرب عرب ممالک سے سینکڑوں کارکنان شریک ہوئے، اس عوامی مہم کے تحت جو غزہ کی حمایت
اور 18 سال سے جاری محاصرے کو توڑنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔
اس مہم میں 32 ممالک سے ہزاروں کارکنان شامل ہیں، جن کا
مقصد اسرائیلی حملوں کو روکنا اور اس محاصرے کو توڑنا ہے جو 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں
کو بھوک کے دہانے پر لے آیا ہے، جیسا کہ منتظمین نے بیان کیا۔
7 اکتوبر 2023 سے قابض اسرائیلی افواج — امریکی حمایت کے ساتھ —
غزہ کے شہریوں کے خلاف نسل کشی کا ارتکاب جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں اب
تک تقریباً 1,82,000 شہید و زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی
ہے، 11 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں، اور زبردست تباہی و جبری نقل مکانی نے تقریباً
15 لاکھ فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا ہے۔
(ماخذ: میڈیا آفس + عربی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية،
اضغط (هنا).