قرآنی قصص کا انسائیکلوپیڈیا
— ڈاکٹر علی الصلابی کا فکری منصوبہ: انبیاء کے پیغام کی تجدید اور عصرِ حاضر کے چیلنجز
کا مقابلہ (انٹرویو )
** ابتداء کا پس منظر: یہ انسائیکلوپیڈیا
ایک فکری مکالمے سے شروع ہوا جو اٹلی کے شہر ویٹیکن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
موضوع پر ہوا، جس کا مقصد قرآن میں بیان کردہ انبیاء کے پیغامات کو واضح کرنا تھا۔
** عصرِ حاضر کے لیے
حل: قرآنی قصص بحرانوں سے نمٹنے کے لیے متاثر کن نمونے
پیش کرتے ہیں، جیسے حضرت یوسف، ایوب اور موسیٰ علیہم السلام کی کہانیاں۔
** تشکیلِ شناخت: قرآنی
بیان دین، اخلاق، تاریخ، سیاست، معیشت، سننِ الٰہی اور تہذیب پر مبنی ایک متحدہ شعور
پیدا کرتا ہے، جو الحاد، ظلم اور بے راہ روی کا مقابلہ کرتا ہے۔
** اثرات :یہ انسائیکلوپیڈیا قاریِ
عصر کو قرآن کے معانی قریب لاتا ہے اور ضعیف روایات، خرافات اور اوہام سے پاک پیش کرتا
ہے۔
** مؤثر واقعات : حضرت
موسیٰ علیہ السلام کی داستان قرآن میں سب سے طویل ہے اور ظلم و استبداد کے خلاف مسلسل
جدوجہد کی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر صلابی سے انٹرویو کیا گیا اس کے خاص
اقتباسات پیش خدمت ہیں.
سوال 1: اس انسائیکلوپیڈیا
کا مقصد اور ایمان کے فروغ میں اس کا کردار کیا ہے؟
ڈاکٹر علی الصلابی کے مطابق یہ منصوبہ
29 اپریل 2015 کو اٹلی کے سفر کے دوران شروع ہوا۔ ویٹیکن میں امنِ انسانی کے موضوع
پر اجلاس میں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بات آئی تو انہوں نے واضح کیا کہ قرآن ہی
وہ واحد محفوظ ماخذ ہے جو حضرت عیسیٰ اور سیدہ مریم علیہما السلام کی حقیقی تصویر پیش
کرتا ہے۔
جب انہوں نے سورۃ مریم کی آیات پڑھیں
تو مترجمہ کاتھولک خاتون جذبات سے رو پڑیں۔ اس لمحے انہوں نے محسوس کیا کہ اس نبی کی
حقیقت بیان کرنے میں کتنی کوتاہی ہوئی ہے۔
اس کے بعد انہوں نے "المسیح عیسیٰ
ابن مریم: الحقیقة الکاملة" تصنیف کی، جو کئی زبانوں میں ترجمہ ہوئی اور یورپ
میں علمی مجالس کا موضوع بنی۔ پھر انہوں نے دیگر انبیاء کی سیرت پر لکھنا شروع کیا
تاکہ لوگوں کو قرآن سے جوڑا جا سکے، توحید کو راسخ کیا جا سکے اور انبیاء کے طرزِ فکر
و عمل کو سامنے لایا جا سکے۔
سوال 2: قصصِ قرآنی
عصرِ حاضر کے چیلنجز کا حل کیسے پیش کر سکتے ہیں؟
قرآن کے قصص عملی اور حقیقی نمونے
فراہم کرتے ہیں:
حضرت یوسف علیہ السلام: صبر، عفت،
منصوبہ بندی اور فتنوں سے نجات۔
حضرت ایوب علیہ السلام: صبرِ جمیل
اور دعا میں اسمائے حسنیٰ کا وسیلہ۔
حضرت یونس علیہ السلام: سختیوں میں
اللہ کی طرف رجوع۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام: شرک اور
بت پرستی کے خلاف عقلی و فطری دلائل۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام: ظلم کے خلاف
جہاد، مستضعفین کی نجات، اور مجرموں کا انجام۔
سوال 3: سیرتِ انبیاء
اور قرآنی قصص شناخت سازی میں کیسے مددگار ہیں؟
قرآن امت کو ایک وحدت کے طور پر پیش
کرتا ہے — آدم سے محمد ﷺ تک — توحید، عزت و کرامت، اور عدل کی امت، جو الحاد اور انحراف
کے خلاف ڈٹتی ہے۔ یہ انبیاء کی مثالوں سے اخلاقی و فکری شناخت کو مستحکم کرتا ہے جیسے
حضرت داؤد و سلیمان (عادل حکمران)، حضرت زکریا (دعا میں انکساری)، حضرت ہود (توکل)،
حضرت یوسف (مخالفین کو بھی بھلائی پہنچانا)۔
سوال 4: آپ اس انسائیکلوپیڈیا
سے کیا اثرات چاہتے ہیں؟
ڈاکٹر الصلابی چاہتے ہیں کہ یہ انسائیکلوپیڈیا
انبیاء کی سیرت کو جدید انداز میں پیش کرے، کمزور روایات سے پاک ہو، شبہات کا جواب
دے اور قرآن و صحیح احادیث پر مبنی ہو تاکہ یہ خطباء، علماء، طلباء اور عام قارئین
سب کے لیے نفع بخش ماخذ بنے۔
سوال 5: سب سے زیادہ
اثر انداز کرنے والی کہانی کون سی ہے؟
ان کے نزدیک سب کہانیاں اہم ہیں مگر
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سیرت سب سے نمایاں ہے کیونکہ یہ فرعونی ظلم کے خلاف مزاحمت
اور مظلوموں کی آزادی کی جدوجہد کی داستان ہے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام
کی عقلی و فطری دعوت، حضرت یوسف علیہ السلام کی معافی، صبر اور حکمت عملی کی مثال،
اور دیگر انبیاء جیسے ایوب، یونس، زکریا، یحییٰ، اسحاق، یعقوب اور اسماعیل علیہم السلام
کی سیرتیں ایک کامل اخلاقی و ایمانی نظام پیش کرتی ہیں۔
تیاری اور نظرثانی:
اس منصوبے کے دوران انہوں نے معروف
علماء جیسے شیخ علی محی الدین قرہ داغی، شیخ محمد الحسن الددو، شیخ محسن عبد الحمید
اور دیگر سے مشاورت کی۔ ہر نبی پر مخصوص سوالات کے ساتھ علمی نشستیں ہوئیں اور قدیم
و جدید تفاسیر کا مطالعہ کیا گیا۔
آخر میں وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ کام
خالص لوجہ اللہ ہو اور پوری انسانیت کو نفع دے، کیونکہ قرآنی قصص انسانی تاریخ کی ابدی یادداشت ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع
على الترجمة الكاملة للحوار باللغة العربية، اضغط (هنا).