بحث وتحقیق

تفصیلات

میڈیا آفس کا محترم شیخ عبد الحی یوسف صاحب سے مکالمہ: رمضان المبارک کے لیے روحانی بصیرت اور عملی تیاری

میڈیا آفس کا محترم شیخ عبد الحی یوسف صاحب سے مکالمہ: رمضان المبارک کے لیے روحانی بصیرت اور عملی تیاری

 

محترم شیخ عبد الحی یوسف:

·     رمضان کے استقبال کے لیے توبہ کی تجدید اور دل کی صفائی، نماز، قیام اور صدقات کی حکمت کے ساتھ منصوبہ بندی

·     عبادت میں اخلاص اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی

·     رمضان کے “لٹیروں” سے بچاؤ اور یکسوئی کا تحفظ

·     خاندان کو عبادت اور روزانہ صدقات میں شریک کرنا

 

رمضان المبارک کی آمد کے پیشِ نظر، میڈیا آفس نے، شیخ عبد الحي يوسف، رکن الاتحاد العالمي لعلماء المسلمين سے گفتگو کی، جس میں ماہِ مبارک کی روحانی و عملی تیاری، خشوع و عبادت کے فروغ، روزمرہ طاعات کی تنظیم، اور خاندان و معاشرے کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔

1️ رمضان سے پہلے نفسیاتی اور روحانی تیاری

سوال: رمضان کی آمد سے قبل دل کی صفائی اور نیت کی مضبوطی کے لیے اہم اقدامات کیا ہیں؟

رمضان کوئی عام مہینہ نہیں، بلکہ وہ مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عظیم خصوصیات اور بے پناہ عطیات سے نوازا ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اسے خوشی اور شکر کے ساتھ قبول کرے، اس احساس کے ساتھ کہ یہ ایک عظیم موقع ہے جس سے بعض لوگ محروم بھی ہو چکے ہیں۔

اس فضل کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ:

اولاً: اللہ عزوجل کے حضور توبہ کی تجدید کرے؛ یہی دل کی صفائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

ثانیاً: تمام مسلمانوں سے اپنے جھگڑے اور کدورتیں ختم کرے، تاکہ دلوں کی میل دھل جائے اور شیطان کے راستے بند ہوں۔

ثالثاً: پختہ ارادہ کرے کہ وہ رمضان کا روزہ ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے؛ اس یقین کے ساتھ کہ اللہ نے اسے فرض کیا اور قرآن اسی مہینے میں نازل ہوا۔

رابعاً: اپنے لیے ایسا منصوبہ بنائے جس سے دن، رات بلکہ گھڑیاں، منٹ اور لمحے بھی اللہ کی قربت کے حصول میں صرف ہوں۔

2️ رمضان میں اعمالِ صالحہ کی تنظیم

سوال: روزہ، نماز، تلاوت اور صدقات کو کیسے منظم کیا جائے تاکہ ہر لمحہ کارآمد ہو؟

یہ سب بہتر منصوبہ بندی سے ممکن ہے؛ کیونکہ منصوبہ بندی میں ناکامی دراصل ناکامی کی منصوبہ بندی ہے۔ رمضان سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لیے:

اول: فرض نماز باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کرے؛ بعض صالحین کے بقول جو شخص فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرے، گویا اس نے خشکی و تری کو نیکی سے بھر دیا۔

دوم: قیام اللیل کا عظیم اجر ہے؛ لہٰذا تراویح کے لیے باقاعدہ پروگرام بنائے اور اس شعیرہ کو احسن طریقے سے ادا کرے۔

سوم: چند روزہ داروں کو افطار کرانے کے لیے رقم مختص کرے؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو کسی روزہ دار کو افطار کرائے اسے اس کے برابر اجر ملتا ہے۔

چہارم: خود سے سوال کرے کہ میں قرآنِ کریم کتنی مرتبہ ختم کروں گا؟ اور سلف صالحین کو یاد کرے جن کا کہنا تھا کہ رمضان میں دو ہی کام اہم ہیں: کھانا کھلانا اور قرآن پڑھنا۔

3️ رمضان میں خشوع اور قربِ الٰہی کا حصول

سوال: عبادات کو خشوع اور قربِ الٰہی کا ذریعہ کیسے بنایا جائے؟

یہ دو باتوں سے حاصل ہوتا ہے:

اول: عبادت میں خالصتاً اللہ کے لیے اخلاص ہو، ریا اور دکھاوے سے اجتناب کیا جائے۔

دوم: رسول اللہ ﷺ کی پیروی اختیار کی جائے، جو بہترین نمونہ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

“نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھا ہے”،

“مجھ سے اپنے مناسک سیکھ لو”،

اور فرمایا: “میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور پرہیزگار ہوں”۔

لہٰذا روزہ، قیام اور تلاوت میں آپ ﷺ کی سنت کی پیروی ہی خشوع کا راستہ ہے۔

4️ رمضان میں روزمرہ چیلنجز کا مقابلہ

سوال: روزمرہ مصروفیات اور توجہ بھٹکانے والی چیزوں کے باوجود عبادات کی پابندی کیسے ممکن ہے؟

انسان کو یاد رکھنا چاہیے کہ رمضان کے دن گنے ہوئے اور راتیں محدود ہیں۔ اسے “رمضان کے لٹیروں” سے بچانا ہوگا، جو اس مہینے کو اس سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

برے دوست، جو فضول نشستوں اور لغو گفتگو میں وقت ضائع کرتے ہیں

سوشل میڈیا، جس کا بعض لوگ بے جا استعمال کرتے ہیں۔

ٹی وی پروگرامز، جن کے ذریعے بعض عناصر لوگوں کو عبادت سے غافل کرنا چاہتے ہیں۔

5️ رمضان کا خاندانی اور سماجی پہلو

سوال: خاندان اور معاشرہ ایک دوسرے کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟

اگر ہر گھر میں روزانہ قرآن کی مجلس ہو، تو یہ نبی کریم ﷺ اور جبریل علیہ السلام کے طرزِ عمل کی پیروی ہوگی؛ کیونکہ رمضان میں آپ ﷺ ہر سال قرآن کا دور فرماتے، اور آخری سال دو مرتبہ کیا۔

اسی طرح اگر گھر والے مل کر؛ اگر دو رکعت ہی کیوں نہ ہوں—رات کے آخری حصے میں نفل ادا کریں، تو بڑے اس کے عادی ہوں گے اور بچے اسی ماحول میں پروان چڑھیں گے۔

افطار پر سب کا اکٹھا ہونا، افطار سے پہلے اور بعد کی مسنون دعاؤں اور اذکار کا اہتمام کرنا بھی باعثِ برکت ہے۔

مزید یہ کہ گھر کا سربراہ صدقات میں اہلِ خانہ کو شریک کرے، بچوں کو کچھ رقم دے کر صدقہ کروائے، تاکہ ان کے دلوں میں اس عظیم عبادت کی محبت پیدا ہو—وہ عبادت جس کی تمنا انسان موت کے وقت کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ﴾ (سورۃ المنافقون: 10)

(ماخذ: میڈیا آفس برائے عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز)

 

ـــــــــــــــــــــــــــ

* للاطلاع على الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).




منسلکات

السابق
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کا عالمی اقدار کے بحران اور اخلاقی نظام کے انہدام کے بارے میں بیان

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں