بحث وتحقیق

تفصیلات

عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کا عالمی اقدار کے بحران اور اخلاقی نظام کے انہدام کے بارے میں بیان

عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کا عالمی اقدار کے بحران اور اخلاقی نظام کے انہدام کے بارے میں بیان

 

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمد،و آلہ وصحبہ اجمعین!

الاتحاد العالمي لعلماء المسلمين (عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز) نہایت گہری تشویش کے ساتھ اُن مسلسل انکشافات کا جائزہ لے رہا ہے جو اس بات کی واضح علامت ہیں کہ عالمی سطح پر اخلاقی نظام شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے اور معاصر عالمی نظام کی بنیادیں متزلزل ہو رہی ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال وہ معاملہ ہے جسے “جزیرہ ایپسٹین” کے نام سے جانا گیا، ایک ایسا اسکینڈل جس نے سیاسی، معاشی اور علمی اشرافیہ کی بعض شخصیات کے چونکا دینے والے طرزِ عمل کو بے نقاب کیا، جو انسانی وقار کو مجروح کرتا ہے، عورت اور بچے کے بنیادی حقوق کو پامال کرتا ہے، اور انسانی حقوق کے بلند بانگ نعروں اور عالمی طاقت کے بعض حلقوں کے تاریک طرزِ عمل کے درمیان سنگین تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ اسکینڈل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ ایک سنگین اقداری بحران کی خطرناک علامت ہے، جس میں اخلاقی ضابطے مفقود ہو رہے ہیں، فطرتِ سلیمہ کو پامال کیا جا رہا ہے، اور مال، طاقت اور لذت کو ہر انسانی اور دینی قدر پر ترجیح دی جا رہی ہے۔

اس بڑے اخلاقی بحران کے پیشِ نظر اتحاد درج ذیل امور کی تاکید کرتا ہے:

اولاً: شدید مذمت

جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کی تمام صورتوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے، اور اسے شریعت، عقل اور انسانیت کے میزان میں ایک عظیم جرم قرار دیا جاتا ہے، جس پر بلا امتیاز اور بغیر کسی سیاسی یا مالی استثنا کے منصفانہ احتساب لازم ہے۔

ثانیاً: دوہرا معیار

اس قضیے نے بین الاقوامی خطاب اور بعض بڑے سیاسی رہنماؤں کے ہاں پائے جانے والے دوہرے معیار کو آشکار کر دیا ہے۔ ایک طرف عورت اور بچے کے دفاع کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب بااثر شخصیات انہی حقوق کی پامالی میں ملوث پائی جاتی ہیں۔ بلکہ اثر و رسوخ اور بلیک میلنگ کے نیٹ ورک مختلف ممالک کے سیاسی و معاشی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جو ریاستوں کی خودمختاری اور ان کے اخلاقی و سیاسی استقلال کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔

ثالثاً: بحران کی جڑیں

آج جو اخلاقی انحطاط، اقدار کی تحلیل اور فطرتِ سلیمہ سے انحراف دیکھنے میں آ رہا ہے، وہ دراصل زندگی سے دینِ حق کو بے دخل کرنے اور خواہشِ نفس و مادی مفاد کو انسانی رویّے کا واحد معیار بنانے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔

قرآنِ کریم نے اس روش کی سنگینی کو یوں بیان فرمایا:

﴿إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا﴾۔

رابعاً: مسئلہ کا حل—ربانی اقدار میں.

انسانیت کو آج ایک ایسی مستحکم اخلاقی مرجعیت کی اشد ضرورت ہے؛ جو انسان کو اس کی انسانیت واپس دلائے، زندگی کو اس کا مفہوم عطا کرے، اور سیاست کو ضمیر بخشے۔

اسلام—اپنے مضبوط عقیدہ اور بلند اخلاق کے ساتھ—ایک مکمل نظامِ حیات پیش کرتا ہے؛ جو انسانی وقار کی حفاظت کرتا ہے، عورت کی صیانت کرتا ہے، بچے کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے، اور اقتدار، دولت اور اثر و رسوخ پر سخت اخلاقی پابندیاں عائد کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾۔

خامساً: عملی دعوت

اتحاد درج ذیل امور کی دعوت دیتا ہے:

·     تمام ملوث افراد کو بے نقاب کرنے کے لیے آزاد اور شفاف بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن قائم کیے جائیں، جن میں کسی کو استثنا حاصل نہ ہو۔

·     متاثرین کو تحفظ، مناسب معاوضہ اور ازالۂ ضرر فراہم کیا جائے۔

·     بین الاقوامی قوانین اور پالیسیوں میں دینی اخلاقیات کی بحالی کے لیے سنجیدہ عالمی مکالمہ شروع کیا جائے۔

سادساً: عالمی اسلامی اخلاقی سربراہی اجلاس کی دعوت

ایک عالمی اسلامی اخلاقی سربراہی اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ ربانی اقدار پر مبنی ایک انسانی و تہذیبی منصوبہ تشکیل دیا جا سکے، جو دنیا کو تیزی سے بڑھتے ہوئے اخلاقی انحطاط سے بچانے میں معاون ہو۔

دنیا محض نعروں یا بدلتی ہوئی مفادات کی سیاست سے نہیں بچ سکتی، بلکہ اسے اُن ثابت اقدار کی ضرورت ہے جو انسان کو اس کے ضمیر اور ربِ کائنات کی نگرانی کے تابع بنائیں۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انسانیت کے لیے رشد و ہدایت کا سامان فرمائے، اسے فطرتِ سلیمہ کی طرف لوٹا دے، اور ہماری امت کو حق کی گواہ اور لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنے والی بنائے۔

واللہ ولیّ التوفیق۔

عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز

دوحہ: ۲۵ شعبان ۱۴۴۷ھ

مطابق: 13 فروری 2026ء

 

ـــــــــــــــــــــــــــ

* للاطلاع على الترجمة الكاملة للبيان باللغة العربية، اضغط (هنا).




منسلکات

التالي
میڈیا آفس کا محترم شیخ عبد الحی یوسف صاحب سے مکالمہ: رمضان المبارک کے لیے روحانی بصیرت اور عملی تیاری
السابق
اشتراکیت سے اسلامی قیادت تک

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں