حالیہ امریکہ اسرائیل
_ایران جنگ پر عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کا بیان
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز نے
صہیونی–امریکی بالادستی اور اس کے سنگین نتائج کے بارے میں نہایت سخت اور واضح مؤقف
اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ روش امتِ مسلمہ کے امن، خودمختاری اور استحکام
کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے۔ اتحاد نے ایران پر ہونے والے جارحانہ حملوں کی پرزور مذمت
کی ہے اور انہیں خطے میں عدم استحکام کو بڑھانے والی خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔
ساتھ ہی اتحاد نے خلیجی ممالک، اردن
اور عراق پر ایران کی جانب سے کی جانے والی جارحانہ کارروائیوں کی بھی سخت الفاظ میں
مذمت کی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں پرامن شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا، جانوں کا ضیاع
ہوا اور املاک کو نقصان پہنچا۔ اتحاد نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوراً ایسی کارروائیاں
بند کرے اور اسلامی ممالک میں بدامنی اور انتشار پیدا کرنے سے باز رہے، کیونکہ اس طرزِ
عمل سے صرف دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور عوامی سطح پر اشتعال اور بداعتمادی میں
اضافہ ہوتا ہے۔
اتحاد نے زور دے کر کہا ہے کہ فوری
طور پر ہر قسم کی جارحیت روکی جائے، سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات کا آغاز کیا جائے، اور
خلیجی ممالک کو اس وسیع تر جنگ کی طرف نہ دھکیلا جائے جس کی خواہش دشمن عناصر رکھتے
ہیں۔
اتحاد نے خطے کی موجودہ صورتِ حال
کا جائزہ لیتے ہوئے اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ ہماری کمزوریوں کی اصل جڑ اسلام کے
اس جامع اور عادلانہ منہج سے دوری ہے جو امت کو خیر، قوت اور اتحاد عطا کرتا ہے۔ داخلی
انتشار، فرقہ وارانہ کشمکش اور باہمی نزاعات نے امت کو شدید ضعف اور ناکامی سے دوچار
کیا، جس کے نتیجے میں امت پارہ پارہ ہو گئی اور صہیونی–صلیبی منصوبہ مضبوط ہوتا چلا
گیا، یہاں تک کہ ریاستِ قبضہ کو “نیل سے فرات تک” وسعت دینے جیسے خطرناک نعرے بلند
کیے جانے لگے۔
اس تشویش ناک صورتحال کے پیش نظر عالمی
اتحاد برائے مسلم اسکالرز درج ذیل امور پر زور دیتا ہے:
پہلا نکتہ:
صہیونی–امریکی استعلاء اور اس کی جارحانہ
پالیسیوں کو مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے، جو خطے میں فساد اور تباہی کو ہوا دے رہی
ہیں۔ ایران پر ہونے والے حملے، جن میں درجنوں بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے، اسی استکباری
روش کا حصہ ہیں۔ اتحاد امتِ مسلمہ کو القدس و فلسطین، لبنان، شام اور ایران میں جاری
صہیونی جارحیت کے مقابلے میں بیداری، بصیرت اور یکجہتی کی دعوت دیتا ہے۔
دوسرا نکتہ:
خلیجی ممالک اور دیگر ریاستوں پر ایران
کے حملوں، ان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور بے گناہ افراد کے قتل کی شدید مذمت کی
جاتی ہے۔ کسی بھی ملک کی سالمیت اور خودمختاری کو پامال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
تیسرا نکتہ:
اتحاد مطالبہ کرتا ہے کہ خلیجی ممالک
پر ایران کی جانب سے کیے جانے والے حملے اور ایرانی عوام پر صہیونی–امریکی جارحیت فوری
طور پر بند کی جائے، تاکہ مزید خونریزی اور تباہی کا راستہ روکا جا سکے۔
چوتھا نکتہ:
اتحاد اس موقع کو امتِ مسلمہ کے لیے
بیداری کا لمحہ قرار دیتے ہوئے حقیقی اتحاد، مضبوط دفاعی قوت کے قیام اور باہمی اعتماد
کے فروغ کی دعوت دیتا ہے۔ ان واقعات سے سبق حاصل کرتے ہوئے ریاستوں اور اقوام کی خودمختاری
کا احترام یقینی بنایا جائے، کسی ملک پر بیرونی نظریات یا انقلابی ایجنڈا مسلط نہ کیا
جائے، اور مسلم عوام کی معاشی، سماجی اور فکری فلاح و بہبود پر بھرپور توجہ دی جائے۔
عقائد اور مسالک میں زبردستی تبدیلی کی کوششیں بڑے تنازعات، نفرتوں اور مستقل تقسیم
کو جنم دیتی ہیں، جو پوری امت کے لیے نقصان دہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ
لَا يَعْلَمُونَ﴾ (یوسف: 21)
جاری کنندہ:
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز
الدوحہ
13 رمضان 1447ھ
بمطابق 2 مارچ 2026ء
ـــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على الترجمة الكاملة للبيان باللغة
العربية، اضغط (هنا).