بسم اللہ الرحمن الرحیم
پاکستان اور افغانستان
کے درمیان ماہِ رمضان المبارک میں جنگ بندی کے وجوب کے بارے میں فتویٰ
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام
علی المبعوث رحمۃً للعالمین، وعلیٰ آلہ وصحبہ ومن تبع ہداہ إلیٰ یوم الدین۔ أما بعد:
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابیں نازل فرمائیں
اور اپنے رسولوں (علیہم السلام) کو اپنے بندوں کی طرف اس لیے بھیجا کہ خالصتاً اللہ
کی عبادت قائم ہو، کلمۂ حق کو متحد کیا جائے، اور مسلمان دین کی بنیاد پر باہم بھائی
بھائی بن جائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“بیشک مؤمن آپس میں بھائی ہیں” (الحجرات:
10)۔
اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کے
ذریعے اپنے دین کو مکمل فرمایا جو دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں کا جامع ہے، تاکہ ایک
مضبوط اور متحد امت وجود میں آئے جو ہر پہلو سے خیر والی امت ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے:
“تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی
ہے” (آل عمران: 110)۔
اس شرط کے ساتھ کہ وہ اللہ کی مضبوط
رسی کو تھامے رہیں، باہم متحد رہیں، اصول و ثوابت میں اختلاف نہ کریں، تاکہ وہ زندگی
میں کامیاب ہوں اور ناکامی سے بچیں۔ ورنہ ان کی قوت ختم ہوجائے گی اور ان کی ہوا اکھڑ
جائے گی، اور اس وقت وہ اس حال کو پہنچ جائیں گے کہ دوسری قومیں ان پر اس طرح ٹوٹ پڑیں
گی جیسے کھانے والے اپنے تھال پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
یہ حدیث ابو داؤد (4297)، احمد
(22397) وغیرہ نے روایت کی ہے اور محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے امت کو تفرقہ
سے سختی کے ساتھ منع فرمایا اور اسے کفر اور گمراہی سے تعبیر کیا۔ چنانچہ حجۃ الوداع
کے موقع پر آپ ﷺ نے اپنی امت کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا:
“میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم ایک دوسرے کی
گردنیں مارنے لگو”
(صحیح بخاری: 121، صحیح مسلم: 65)۔
ایک دوسری صحیح روایت میں الفاظ ہیں:
“خبردار! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ تم ایک
دوسرے کی گردنیں مارنے لگو”
(صحیح بخاری: 4406، 5550، 7447؛ صحیح مسلم:
1679)۔
ان مبارک نصوص کے علاوہ اسلام نے مسلمان
کے قتل کے بارے میں انتہائی سخت وعید بیان کی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے
تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اللہ اس پر غضبناک ہوگا، اس پر لعنت
کرے گا اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے” (النساء: 93)۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کا قتل پوری دنیا کے
ختم ہوجانے سے بھی بڑا ہے”
(بیہقی: 16290، محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے)۔
اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:
“اگر آسمان اور زمین کے تمام باشندے کسی مؤمن
کے خون میں شریک ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ سب کو جہنم میں ڈال دے گا”
(ترمذی: 1398، محققین کے نزدیک صحیح)۔
ان واضح نصوص اور دیگر دلائل کی بنیاد
پر جو مسلمانوں کے درمیان قتال اور قتل کی حرمت پر دلالت کرتے ہیں—بلکہ اسے گمراہی
اور کفر (یعنی ایسا کفر جو کفرِ شرک سے کم درجہ کا ہے) قرار دیتے ہیں—میں، سینکڑوں
جید علماء اور ان کی علمی جماعتوں کی جانب سے، جنہوں نے ہمارے سابقہ بیان کی تائید
کی ہے، یہ فتویٰ دیتا ہوں کہ اس بابرکت مہینے میں دو برادر اور پڑوسی اسلامی ممالک
پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوراً جنگ بند کر دی جائے۔ یہ دونوں ممالک عقیدہ،
ہمسائیگی، باہمی حقوق، دینی رشتوں اور دیگر روابط کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
لہٰذا جنگ بندی ایک شرعی فریضہ ہے،
ان بہت سے دلائل کی بنا پر جن میں سے بعض کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔ نیز ماہِ رمضان المبارک
کی تعظیم کے پیش نظر—جو تقویٰ، احسان اور عبادت کا مہینہ ہے—اور لیلۃ القدر کے احترام
میں، جو آخری عشرے میں آتی ہے اور ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ جنگ بندی ایک عملی
اور حقیقی ضرورت بھی ہے، کیونکہ ہماری امت کو بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ صہیونیوں
کے سربراہ “نیتن یاہو” علانیہ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ شیعہ محور کو ختم کرنے کے
بعد سنی محور کے خاتمے کے لیے فارغ ہوں گے۔
تو کیا ہم اپنے ہتھیار مسلمانوں کو
قتل کرنے میں استعمال کریں گے، یا انہیں مسلمانوں کی حفاظت کے لیے محفوظ رکھیں گے؟
میں یہاں اپنی اس دعوت کو دوبارہ دہراتا
ہوں کہ پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت دیگر
اسلامی ممالک مل کر ایک مضبوط اسلامی اتحاد تشکیل دیں تاکہ اس کھلے اور واضح صہیونی
منصوبے کے خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اے دونوں برادر ملکوں (پاکستان اور
افغانستان) کے معزز قائدین!
آخری عشرہ شروع ہونے سے پہلے جنگ بند
کر دیں، تاکہ عید کے بعد ہونے والی ملاقاتوں کے لیے فضا ہموار ہو سکے، جن میں آپ کے
تمام مطالبات اور شرائط پر گفتگو ہو سکے گی۔ قطر، سعودی عرب اور ترکی ان شاء اللہ تمام
مسائل کے حل کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
اور ہم بھی عالمی اتحاد برائے مسلم
اسکالرز کی حیثیت سے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اس مسئلے کے حل کے لیے حاضر ہیں
اور دونوں برادر فریقوں کے دورے کے لیے بھی تیار ہیں۔
ہم سب پر امید ہیں، پُر امید اپیل
اور درخواست کرتے ہیں کہ اس بابرکت مہینے میں اور آخری عشرے کے آغاز سے پہلے فوراً
جنگ بندی کر دی جائے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو ہر خیر کی توفیق عطا فرمائے، آپ کے دونوں
ممالک اور تمام مسلم ممالک کو ہر برائی اور مصیبت سے محفوظ رکھے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام
لو اور تفرقہ نہ ڈالو، اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی، جب تم ایک
دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کے فضل سے بھائی
بھائی بن گئے…” (آل عمران: 103)۔
اور فرمایا:
“اور کہہ دیجیے: عمل کرو، پس اللہ تمہارے عمل
کو دیکھے گا اور اس کا رسول اور مؤمن بھی” (التوبہ: 105)۔
اللہ کی حفاظت اور نگرانی میں رہیں۔
شیخ علی محی الدین قرہ داغی
صدر، عالمی اتحاد برائے مسلم
اسکالرز.
ـــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على الترجمة الكاملة للفتوى باللغة
العربية، اضغط (هنا).