عربی و اسلامی امت کے
قائدین کے نام ایک پیغام اے امت مسلمہ ! اور اے قائدینِ ملت!
اگرچہ ہم ایران کی جانب سے ہمسایہ
ممالک پر ہونے والی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، مگر ہمیں اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھ کر
آگے بڑھنا ہوگا کہ صہیونی منصوبہ اب محض تجزیوں یا قیاس آرائیوں کا موضوع نہیں رہا۔
خود اس کے قائدین کی زبان سے یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ اس کا ہدف صرف ایران نہیں
بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ہے۔ یہ دراصل اکیسویں صدی میں توسیع اور ایک نئے استعماری قبضے
کا منصوبہ ہے۔
اسی لیے شرعاً، عقلاً اور فطرتاً یہ
لازم ہے کہ اسلامی ممالک اس خطرناک منصوبے کے مقابلے کے لیے ایک مضبوط اتحاد قائم کریں۔
اسی کے ساتھ ایران کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے، عرب دنیا
میں پیدا ہونے والے تنازعات اور کشیدگیوں کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے اور ہمسایہ
ممالک کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کا راستہ اختیار کرے۔
یاد رہے کہ ماضی میں اس صہیونی۔امریکی
توسیعی منصوبے کا اعتراف صہیونی ریاست کے سربراہوں کی جانب سے کھل کر نہیں کیا جاتا
تھا۔ اس کے بارے میں صرف وہی اہلِ فکر و تحقیق گفتگو کرتے تھے جو اپنے دین اور امت
کے مخلص خیرخواہ تھے۔ مگر افسوس کہ ان کی باتوں کا مذاق اڑایا گیا، انہیں “سازشی نظریات”
کا قائل قرار دیا گیا، اور مغربی تہذیب سے متاثر بہت سے لوگوں نے ان کی پیش گوئیوں
کو محض واہمہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔
پھر طوفانِ اقصیٰ کا واقعہ پیش آیا
جس نے پردۂ حقیقت کو چاک کر دیا۔ اس کے بعد صہیونی ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے داروں—صدر
سے لے کر وزیر اعظم تک—نے برملا یہ اعلان کیا کہ “آباؤ اجداد کی سرزمین” نیل سے فرات
تک پھیلی ہوئی ہے، اور یہ کہ تبدیلی اور تسلط کا دائرہ صرف ایران تک محدود نہیں ہونا
چاہیے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینا چاہیے۔ اس مؤقف کی حمایت صہیونی
ریاست کے اندر موجود انتہا پسند دائیں بازو نے بھی پوری قوت سے کی، اور اس کے حق میں
تورات کی نصوص اور نام نہاد “ابراہیمی وعدوں” کا حوالہ دیا گیا، حتیٰ کہ قابض ریاست
میں امریکی سفیر نے بھی اسی زبان میں گفتگو کی۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ صحیح توراتی
نصوص اور حقیقی ابراہیمی وعدے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے،
اور وہ اسے اپنے نیک بندوں کا وارث بناتا ہے۔ قرآن کریم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب بنی
اسرائیل کو ارضِ مقدس میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے خوف اور بزدلی کا مظاہرہ
کرتے ہوئے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس سرکشی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے
اس سرزمین کو ان پر چالیس سال کے لیے حرام قرار دے دیا اور انہیں زمین میں بھٹکنے کی
سزا دی۔
درحقیقت اللہ تعالیٰ تمام انسانوں
کا خالق ہے، اور وہ کسی قوم یا فرد کو کسی دوسرے پر محض نسل یا نسبت کی بنیاد پر فضیلت
نہیں دیتا۔ فضیلت کا معیار صرف تقویٰ اور نیک عمل ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن کریم نے سورۂ
انبیاء میں یوں بیان فرمایا ہے:
“اور ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا تھا کہ
زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ بے شک اس میں عبادت گزار لوگوں کے لیے بڑی نصیحت
ہے، اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”
اس وجودی خطرے کے پیش
نظر میری رائے میں اسلامی ممالک کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:
سب
سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ وہ اس خطرناک صہیونی توسیعی منصوبے کے مقابلے میں اپنی
تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہوں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ وہ ممالک
جو واقعی اپنی امت اور اپنی قوم کے ساتھ وفاداری رکھتے ہیں، ایک مشترکہ سربراہی اجلاس
منعقد کریں—چاہے یہ اجلاس جدید الیکٹرانک ذرائع ہی کے ذریعے کیوں نہ ہو۔ سنجیدہ مطالعات،
واضح منصوبہ بندی اور ٹھوس پروگرام ترتیب دینے کے بعد ان ممالک—جیسے سعودی عرب، ترکی،
قطر، پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا اور دیگر وہ ریاستیں جو صہیونی خطرے کو محسوس کرتی
ہیں—کو ایک منظم فوجی اور معاشی اتحاد قائم کرنا چاہیے، جو کسی حد تک “نیٹو” کی طرز
پر ہو۔
دوسرا
اہم قدم یہ ہونا چاہیے کہ ایران کے ذمہ دار حکام کے ساتھ ایک سنجیدہ اور شفاف اجلاس
منعقد کیا جائے، جس میں ان تمام مسائل پر کھل کر گفتگو ہو جو بعض عرب ممالک کی جانب
سے ایران کے بارے میں اٹھائے گئے ہیں، مثلاً عراق، یمن اور دیگر علاقوں میں اس کا کردار۔
اس نشست میں دونوں طرف کے تمام حساس اور اہم معاملات کو کھلے دل کے ساتھ زیرِ بحث لایا
جائے، تاکہ باہمی اعتماد کی بنیاد پر عملی اور قابلِ نفاذ حل سامنے آسکیں اور ایک ایسا
معاہدہ طے پائے جو ایران اور ان تمام ممالک کے درمیان ہو جو اس کی پالیسیوں سے متاثر
ہوئے ہیں۔
اگر یہ مسائل سفارتی طریقے سے حل ہو جائیں، اور ان کے
لیے باقاعدہ معاہدے، عملی اقدامات اور بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کی جائیں، تو اس
سے پورا خطہ استحکام کی طرف ایک اہم قدم بڑھا سکتا ہے اور اپنے مسائل کو بیرونی مداخلت
کے بغیر خود حل کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ درحقیقت موجودہ وقت ایک سنہری موقع ہے کہ
خطے کے ممالک باہمی افہام و تفہیم اور قانونی و علاقائی اصولوں کے مطابق ایک مخلصانہ
داخلی حل تک پہنچ جائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ سب کی توجہ اس امر
پر ہونی چاہیے کہ جنگ کو روکا جائے اور خطے کے سکیورٹی نظام کو ٹوٹنے سے بچایا جائے،
کیونکہ اس کے تباہ کن اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سب کو اپنی لپیٹ
میں لے لیں گے۔
اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ عوام میں
صہیونی توسیعی منصوبے کے خطرات اور ایک نئے استعماری قبضے کے ممکنہ نتائج کے بارے میں
شعور بیدار کیا جائے، اور اس کے سدِّباب کے لیے تمام اسلامی اور عرب طاقتوں کو متحد
کیا جائے۔
اس منصوبے کے سب سے خطرناک نتائج میں
سے ایک فلسطین کے مسئلے کا خاتمہ، مسجد اقصیٰ اور القدس کی حیثیت کو ختم کرنا، اور
اس کے ساتھ پورے سنی وجود کو کمزور یا مٹانے کی کوشش ہے۔
یہ سب کچھ اسلامی ممالک سے اس بات
کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنی نیتوں کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں، باہمی اعتماد
کو بحال کریں، اور باہمی تعاون کے ذریعے حقیقی اتحاد کی راہ اختیار کریں۔
اسلامی امت ایک عظیم امت ہے اور اس
کے پاس بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ اگر یہ امت متحد ہو جائے تو وہ نہ صرف اپنی حفاظت
کر سکتی ہے بلکہ اپنی ترقی اور نشاۃ ثانیہ کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے اور قابض قوتوں
کا راستہ بھی روک سکتی ہے۔ مگر اس کے لیے ایک بنیادی شرط ہے: حقیقی اتحاد۔
آج ہماری امت اور اس کے ممالک ایک
نازک موڑ پر کھڑے ہیں اور ایک وجودی خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ یا تو وہ متحد ہو کر
صہیونی منصوبے کو ناکام بنا دیں گے اور اپنی بقا اور عزت کو محفوظ رکھیں گے، یا پھر
اگر وہ اسی طرح بکھرے اور منتشر رہے تو صہیونی منصوبہ نیل سے فرات تک پھیل کر پورے
مشرقِ وسطیٰ پر اپنی گرفت مضبوط کر لے گا اور بالآخر عالمی غلبے کی طرف بڑھے گا۔
آج ہمارے سامنے ایک منظم منصوبہ ہے
جس کے ذریعے طاقت کے بل پر قبضہ مسلط کیا جا رہا ہے، بیرونی ایجنٹ مسلط کیے جا رہے
ہیں اور فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے مسئلے پر صہیونی حل نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی
ہے۔
اس سنگین بحران سے نکلنے کا راستہ
وہی ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی ہے: اتحاد اور جہدِ مسلسل—یعنی ہر
ممکن میدان میں اپنی پوری قوت صرف کرنا۔ چنانچہ قرآن کریم ہمیں دعوت دیتا ہے:
“اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایسی تجارت نہ
بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے؟ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ
کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جدوجہد کرو… یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم
جانتے ہو۔”
یہ جدوجہد صرف عسکری میدان تک محدود
نہیں بلکہ معاشی، علمی، تکنیکی، الیکٹرانک و سائبر، سماجی اور ابلاغی ہر میدان میں
پوری قوت صرف کرنے کا نام ہے، تاکہ جارحیت کو روکا جا سکے، صہیونی منصوبے کو ناکام
بنایا جا سکے اور اللہ کے اذن سے فتح حاصل ہو۔
اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے:
“اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد
کرے گا، بے شک اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے۔”
اور فرمایا: “اور اللہ اپنے کام
پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔” صدق اللہ العظیم۔
تحریر کردہ:
شیخ علی محی الدین قرہ داغی
صدر، عالمی اتحاد برائے مسلم
اسکالرز
دوحہ
18 رمضان 1447ھ
بمطابق: 7 مارچ 2026ء۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على الترجمة الكاملة للخبر باللغة
العربية، اضغط (هنا).