بحث وتحقیق

تفصیلات

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کے بارے میں عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کا بیان

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کے بارے میں عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کا بیان

 

الاتحاد العالمي لعلماء المسلمين نے جمہوریہ پاکستان اور اسلامی امارت افغانستان کے درمیان پیش آنے والی افسوسناک جھڑپوں پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اتحاد نے واضح کیا ہے کہ مسلمان کا مسلمان سے قتال کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور اسے ہر حال میں روکا جانا ضروری ہے۔ دونوں برادر ممالک اسلام، عقیدہ، قبلہ، تاریخ اور مشترکہ مستقبل کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، اس لیے ان کے درمیان خونریزی پوری امت کے لیے باعثِ رنج و اضطراب ہے۔

اتحاد نے اپنے بیان میں قرآن کریم کی اس ہدایت کی یاد دہانی کرائی: ﴿وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا﴾ اور نبی اکرم ﷺ کے اس ارشاد کا حوالہ دیا کہ “مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔” اتحاد نے اس امر پر زور دیا کہ مسلمان کا خون شرعاً محترم ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی حرمت نہایت عظیم ہے۔ مؤمنین کے درمیان قتال ایک بڑا فتنہ ہے جس میں بالآخر سبھی خسارے میں رہتے ہیں، کیونکہ بھائی کے خون پر کوئی حقیقی کامیابی تعمیر نہیں ہو سکتی اور نہ امت کا وقار باہمی نزاع سے بلند ہو سکتا ہے۔

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں، جو قرآن، رحمت اور مغفرت کا مہینہ ہے، اتحاد نے دونوں ممالک کی قیادت، علمائے کرام اور ذمہ دار حلقوں سے فوری جنگ بندی اور خونریزی کے خاتمے کی اپیل کی ہے۔ اس نے زور دیا کہ ہتھیاروں کے بجائے حکمت و تدبر کی آواز کو غالب کیا جائے اور سنجیدہ و مخلصانہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ بیان میں اس امر کی بھی سفارش کی گئی کہ سرحدی اور سکیورٹی نوعیت کے تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ شرعی و قانونی کمیٹیاں قائم کی جائیں تاکہ عدل و انصاف کی بنیاد پر پائیدار حل سامنے آئے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

اتحاد نے اشتعال انگیز بیانات اور نفرت آمیز خطابات سے اجتناب کی تلقین کرتے ہوئے علماء پر زور دیا کہ وہ اصلاحِ ذات البین کے اپنے شرعی فریضے کو ادا کریں اور امت کی اجتماعی مصلحت کو ہر وقتی اور عارضی مفاد پر مقدم رکھیں۔ بیان میں اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا کہ امت اسی وقت سربلند ہوتی ہے جب وہ اپنے خون کی حفاظت کرتی ہے، اپنے جذبات پر قابو پاتی ہے اور عدل، مکالمہ اور رحمت کو اپنا شعار بناتی ہے۔

آخر میں اتحاد نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ دونوں برادر ممالک کے دلوں میں الفت پیدا فرمائے، انہیں ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے اور باہمی تعاون، ہم آہنگی اور پائیدار امن کی طرف رہنمائی فرمائے۔

 

ـــــــــــــــــــــــــــ

* للاطلاع على الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).




منسلکات

السابق
علامۂ ازہری اور فقیہِ شافعی ڈاکٹر محمد حسن ہیتوؒ کے انتقال پر اہلِ شام اور اُمتِ مسلمہ کے نام تعزیتی پیغام

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں