بحث وتحقیق

تفصیلات

علامۂ ازہری اور فقیہِ شافعی ڈاکٹر محمد حسن ہیتوؒ کے انتقال پر اہلِ شام اور اُمتِ مسلمہ کے نام تعزیتی پیغام

علامۂ ازہری اور فقیہِ شافعی ڈاکٹر محمد حسن ہیتوؒ کے انتقال پر اہلِ شام اور اُمتِ مسلمہ کے نام تعزیتی پیغام

✍️ علي محمد محمد الصلابي

 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ...﴾ (آلِ عمران: 185)

لمائے ربانیین کا وصال ایک عظیم سانحہ اور انمول خسارہ ہوتا ہے۔ ان کی وفات سے اُمت ہدایت کے منبروں سے محروم ہو جاتی ہے، بیان کے آفتاب غروب ہو جاتے ہیں اور رہنمائی کے چراغ بجھ جاتے ہیں۔ بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

دلوں میں ایمان اور قضائے الٰہی پر رضا کے ساتھ ہمیں یہ خبر موصول ہوئی کہ علامہ ڈاکٹر محمد حسن ہیتوؒ کا انتقال ہوگیا۔ آپ کا وصال منگل، 7 رمضان 1447ھ بمطابق 24 فروری 2026ء کو کویت شہر میں اذانِ مغرب کے وقت، 85 ہجری برس کی عمر میں ہوا۔ یوں آپ نے دین اور علم کی خدمت میں گزری طویل عمر کا سفر مکمل کیا۔

مرحوم ایک شامی نژاد ازہری عالم اور جامعہ کے استاد تھے۔ آپ اپنے عہد کے اکابر علمائے اصولِ فقہ میں شمار ہوتے تھے اور فقہِ شافعی کے ممتاز فقیہ تھے۔ آپ جامعة الإمام الشافعي (انڈونیشیا) کے بانی بھی تھے۔ عقیدہ، حدیث، علومِ عربیہ اور دیگر شرعی علوم میں آپ کی گہری دل چسپی اور عملی شرکت رہی، اور آپ ایک صاحبِ ذوق ادیب و شاعر بھی تھے۔ آپ نے جامعہ الأزہر سے تعلیم حاصل کی اور وہیں سے ڈاکٹریٹ کی سند پائی۔ آپ شرعی علوم کے سنجیدہ اور مضبوط حصول کی تلقین کرتے اور بغیر علمِ کافی کے فتویٰ دینے کی جسارت کی سخت مذمت فرماتے تھے۔ اسی موضوع پر آپ کی معروف تصنیف ’’المتفيهقون‘‘ ہے۔

حالاتِ زندگی:

آپ کی ولادت 11 ذوالقعدہ 1362ھ بمطابق 10 اکتوبر 1943ء کو شام کے دارالحکومت دمشق کے محلہ رکن الدین میں ہوئی۔ اصولِ فقہ سمیت متعدد شرعی علوم—جیسے عقیدہ، فقہ، حدیث، تفسیر اور منطق—میں آپ کو مہارت حاصل تھی، جن کی تحصیل آپ نے جامعہ ازہر میں کی۔

خاندانی پس منظر

آپ کا تعلق ہیتو خاندان سے تھا، جو شیخانیہ قبیلے سے منسوب ہے۔ یہ ایک عرب قبیلہ تھا جو صدیوں تک کردوں کے درمیان آباد رہا۔ ان کا نسب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے ملتا ہے، جو حضرت حسن بن علیؓ کی اولاد میں سے ہیں۔ خاندان ہیتو علمی ذوق کے اعتبار سے معروف تھا۔ آپ کے آبا و اجداد میں فوجی اور علمی شخصیات شامل تھیں، تاہم آپ کے والد بچپن ہی میں یتیم ہوگئے اور تعلیم کے مناسب مواقع نہ پاسکے۔

طلبِ علم کا سفر:

والدین ناخواندہ ہونے کے باوجود آپ کی تعلیم کے خواہاں تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم دمشق کے مدرسہ ’’عثمان ذی النورین‘‘ میں حاصل کی، جس کے مدیر معروف سلفی عالم شیخ محمود مہدی الاستانبولی تھے۔ بعد ازاں آپ نے ’’المعہد العربی الاسلامی‘‘ میں تعلیم پائی، جس کی بنیاد امام مصطفیٰ السباعیؒ نے رکھی تھی۔ پھر جودت الہاشمی ثانویہ میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔

ابتدا میں آپ کا رجحان سائنسی علوم کی طرف تھا اور آپ جرمنی جا کر راکٹ اور سیارچوں کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے، لیکن گیارہویں جماعت میں آپ کا رخ شرعی علوم کی طرف ہوگیا۔ آپ نے جامعہ ازہر جانے کا ارادہ کیا، مگر والد نے مخالفت کی۔ بالآخر آپ نے خفیہ طور پر پاسپورٹ بنوایا، 1964ء میں اردن کے راستے قاہرہ پہنچے۔ اس وقت سیاسی حالات کشیدہ تھے، مگر غیرمعمولی اجازت سے آپ کو داخلہ ملا۔

سائنسی ثانوی سند ہونے کے باعث داخلے میں مشکلات پیش آئیں، تاہم آزمائشی امتحانات میں کامیابی کے بعد آپ کو شریعت کالج میں داخلہ مل گیا۔ ابتدا میں مالی تنگی کا سامنا رہا، لیکن بعد میں وظیفہ ملنے اور اہلِ خانہ سے مفاہمت کے بعد یکسوئی سے تعلیم مکمل کی اور اصولِ فقہ میں ڈاکٹریٹ حاصل کی۔

علمی خدمات اور اوصاف

ڈاکٹریٹ کے بعد آپ نے کویت میں تدریسی خدمات انجام دیں اور دعوتی و علمی سرگرمیوں میں سرگرم رہے۔ آپ نے الموسوعۃ الفقہیۃ (فقہی انسائیکلوپیڈیا) کی تیاری میں بھی حصہ لیا۔

آپ صبر و استقامت کے پیکر تھے۔ غربت کے باوجود شب و روز مطالعہ و تحقیق میں مصروف رہتے۔ اصولِ فقہ کے مخطوطات سے دس ہزار سے زائد صفحات اپنے ہاتھ سے نقل کیے۔ آپ کی ذاتی لائبریری نایاب اور قیمتی کتب سے مزین تھی۔ 27 برس کی عمر میں آپ نے امام غزالیؒ کی کتاب ’’المنخول‘‘ کی تحقیق کا کارنامہ انجام دیا۔

ڈاکٹر محمد الزحیلی نے آپ کے بارے میں کہا کہ ڈاکٹر محمد حسن ہیتو عصرِ حاضر کے بڑے شافعی علما میں سے ہیں، اور فقہِ شافعی کی اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔

تدریسی خدمات:

1971ء میں کویت کے معہد الایمان الشرعی میں مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ تفسیر، فقہ، اصول، منطق، حدیث اور دیگر علوم میں آپ کے دروس مختلف مساجد اور علمی مراکز میں جاری رہے، خصوصاً مسجد مشاری الروضان میں آپ کے دروسِ تفسیر معروف تھے۔ متعدد شاگردوں نے آپ کی صحبت سے علمی سمت پائی۔

اساتذۂ کرام:

آپ نے متعدد جلیل القدر اساتذہ سے استفادہ کیا، جن میں شیخ شحاتہ محمد شحاتہ، شیخ محمود عبدالدائم، شیخ مصطفیٰ مجاہد عبدالرحمن، شیخ عبدالغنی عبدالخالق اور دیگر اکابر شامل ہیں۔

تصانیف

آپ کی اہم کتب میں شامل ہیں:

الحدیث المرسل، حجیته وأثره

الوجیز فی أصول التشریع الاسلامی

کشف الستر عن سنیة القنوت فی صلاة الفجر

الاجتهاد وطبقات مجتہدی الشافعیة

الخلاصة فی أصول الفقه

المتفيهقون وغیرہ۔

نیز آپ نے امام غزالیؒ کی ’’المنخول‘‘ اور الاسنوی کی ’’التمهید‘‘ جیسی کتب کی تحقیق کرکے علمی دنیا کو گراں قدر سرمایہ عطا کیا۔

دعا واختتام

انا للہ وانا الیہ راجعون بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

اے اللہ! اپنے بندے شیخ ڈاکٹر محمد حسن ہیتو کی مغفرت فرما، ان کے درجات بلند فرما، ان کی قبر کو نور سے منور فرما، اور ان کے علم کو صدقۂ جاریہ بنا دے۔ انہیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ جگہ عطا فرما، اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرما۔

اے اللہ! جس طرح انہوں نے اپنی زندگی میں علم سے نفع پہنچایا، اسی طرح ان کے علمی آثار کو قیامت تک باقی رکھ اور ہر اس شخص کے عمل کا اجر انہیں عطا فرما جو ان کے علم سے مستفید ہو۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔

بدھ، 7 رمضان 1447ھ

بمطابق 24 فروری 2026ء




منسلکات

التالي
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کے بارے میں عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کا بیان
السابق
نیکیوں کا موسم بہار: ماہ رمضان سایہ فگن

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں