نیکیوں کا موسم بہار: ماہ رمضان سایہ فگن
🖋️ نورالصباح خالد توابہ
اللہ رب العالمین نے
بندوں کو اپنی آخرت سنوارنے اور نیکیاں کمانے کے لیے بہت سے مواقع ایسے عطاء کئے، کہ کم وقت میں اور تھوڑے
عمل پر بندہ نیکیوں کا خزانہ جمع کر سکتا ہے ۔اور اللہ پاک کی رضا کا حقدار ہو
سکتا ہے۔ انہی مواقع میں سے ایک قیمتی موقع رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہے، جس
میں امت مسلمہ پر مکمل ایک مہینہ کے روزے فرض کئے گئے ہیں، رمضان عربی زبان کا لفظ
ہے، جس کے معنی ہیں جلانا،جھلسانا ۔اس مہینہ کا نام رمضان اس لیے رکھا گیا ہے کہ
اس ماہ مبارک میں اللہ رب العالمین
روزے دار کے گناہوں کو جھلسا کر انہیں معاف فرمادیتے ہیں۔اور
بندوں کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیتے ہیں ۔
یہ مہینہ درحقیقت رحمت و مغفرت اور جہنم سے نجات پانے کا ذریعہ ہے، جس میں
اللہ رب العالمین اپنے بندوں پر بے پناہ فضل و کرم فرماتے ہیں، اس مہینہ کی خاص
فضلیت یہ بھی ہے کہ اس میں ہر نیک عمل کا ثواب کئی گناہ بڑھا دیا جاتا ہے، ایک فرض
کا ثواب ستر فرضوں کے برابر اور ایک نفلی عبادت کا ثواب دوسرے مہینے کے فرض کے
برابر ہوجاتاہے، اس لیے اس مہینہ میں خوب عبادت، روزہ، تلاوت قرآن کریم اور ذکر و
اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے، حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا
ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :ابن آدم کا ہر عمل اس کا اپنا ہے، سوائے
زورہ کے- روزہ خاص میرے لیے ہے اور اس کا اجر میں از خود جتنا چاہوں گا عطا کروں
گا، اس مذکورہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ ایک ایسا عمل ہے جو خدا تعالیٰ کی
رضا اور خوشنودی کے لیے کیا جاتا ہے، اس میں ریا اور دکھاوا کا کوئی شائبہ نہیں
ہوتا ہے، روزہ کے ذریعہ انسان شیطان کے وسوسوں سے بچتا ہے اور اس کی نفسانی
خواہشات کی اصلاح ہوتی ہے، جس کی وجہ سے نیکی کی رغبت بڑھتی ہے، دل سے ظلمت و تاریکی دور ہوتی ہے اور بندوں کے
اندر صبر و استقامت اور برداشت کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، جب آدمی روزہ کی حالت میں
دن بھر بھوکا پیاسا رہتا ہے، تو اس کے اندر
یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں رزق عطاء کیا ہے اس کی
قدر و اہمیت کیا ہے، جو لوگ فاقوں میں مبتلا ہیں ، ان کی کیا کیفیت ہوتی ہو گی، اس
طور پر روزہ کا عمل انسان کو غریبوں اور مسکینوں سے محبت کرنے اور ان کی ضرورت پوری
کرنے کا درس دیتا ہے، ان کے ساتھ حسن سلوک کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
تمام عبادات میں یہ شرف صرف روزہ کو حاصل ہے کہ اس کا اجر و
ثواب اللہ پاک خود مرحمت فرمائیں گے اور دیگر اعمال کا بدلہ فرشتوں کے ذریعے دلوائیں
گے یہ روزے دار کی بڑائی اور سعادت کی بات ہے۔
اس
لئے ہمیں اس مہینے کہ فیوض و برکات سے خوب فائدہ اٹھانا چاہیے!
رمضان المبارک کا ہر لمحہ عبادت اور اصلاح کے لیے قیمتی ہے، اس کا پہلا
عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے نجات کا ہے، جب بندہ پورے مہینہ
کے روزے رکھتا ہے اور پورے مہینہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنا وقت گزارتا ہے،
جھوٹ، غیبت بے حیائی اور نافرمانی والے
اعمال سے خود کو محفوظ رکھتا ہے، تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے، جیسے وہ
گناہ کیا ہی نہ ہو-
رمضان کو قرآن کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ
اسی مبارک مہینہ میں ہماری ہدایت اور رہنمائی کے لیے نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا؛ جو پوری انسانیت کے لیے سراپا ہدایت
ہے، قرآن پاک کا نزول جس رات میں نل شروع ہوا اس رات کو" لیلة القدر"
کہتے ہیں، یہ رمضان المبارک کی آخری دس طاق راتوں میں سے ایک انتہائی بابرکت رات
ہے، جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس لیے لیلۃ القدر کو پانے کے لیے اخیر عشرہ کا
اعتکاف بھی کیا جاتاہے، اعتکاف کی سنت ایسی عظیم سنت ہے جسے کو ہمارے نبی نے کبھی
نہیں چھوڑا، اس عظیم سنت پر ہمیں عمل پیرا ہونے کی کوشش کرنی چاہیے ۔اسی طرح تلاوت
قرآن کریم کا بھی خوب اہتمام ہونا چاہیے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ مہینہ صبر شکر
اور تقویٰ کا مہینہ ہے لہذا ہمیں صبر شکر اور تقویٰ اختیار کرنا چاہیے ۔
رمضان المبارک کا مہینہ اللہ کی طرف سے بندوں کے
لیے عظیم نعمت ہے، یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم لوگ اس مبارک مہینہ کا کما حقہ قدر
نہیں کرتے؛ جو غیر مناسب عمل ہے. اللہ پاک ہم سب کو رمضان المبارک کی قدر کرنے اور
اس میں خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اللہ پاک ہمارے دلوں کو ایمان کی نور
سے منور فرمائے اور اس مقدس مہینے کے صدقے ہمارے گناہوں کو معاف کرے. آمین! یارب
العالمین.