بحث وتحقیق

تفصیلات

ماریا: الحاد سے حجاب کا سفر

ماریا: الحاد سے حجاب کا سفر

 

امریکی ریاست کولوراڈو (Colorado) کا شہر بولڈر (Boulder) اپنی دلکش وادیوں، برف پوش پہاڑوں، جدید یونیورسٹی کلچر اور سائنسی تحقیق کے مراکز کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ یہ امریکا کے ان چند شہروں میں سے ہے جو فطرت کی رعنائی اور ٹیکنالوجی کی جدت کو بیک وقت اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں راکی پہاڑی سلسلے کی برف پوش چوٹیاں آسمان سے باتیں کرتی ہیں، جہاں وادیوں میں بہتے دریا سنگلاخ چٹانوں سے ٹکرا کر نغمہ سناتے ہیں اور جہاں صحرا کی سنہری زمینیں جنگلات کی سرسبز لہروں سے جا ملتی ہیں۔ کولوراڈو کو پہاڑوں اور سطح مرتفع کی ریاست کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا، کیونکہ یہاں قدرت نے زمین کے ہر رخ کو رنگوں اور شکلوں کی عجیب ہم آہنگی عطا کی ہے۔ گویا یہ فطرت کا اک عجوبہ ہے۔ خاص کر بولڈر شہر پہاڑوں کے دامن میں بسا ہوا، اپنی دلکش وادیوں، شفاف ہوا، برف پوش چوٹیوں اور جدید تعلیمی اداروں کی وجہ سے مشہور ہے۔ بولڈر کی سڑکوں پر چلتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فطرت اور ترقی نے یہاں ایک غیر مرئی معاہدہ کر رکھا ہو، ایک طرف جدید یونیورسٹی کلچر، تحقیق اور سائنسی ذہنیت ہے، تو دوسری طرف دریا کے کنارے بیٹھے ہوئے نوجوان گٹار کی دھنوں میں کھوئے نظر آتے ہیں۔

یہی بولڈر ہے، جہاں الحاد اور مذہب بیزاری بھی ایک عام روایت ہے۔ یونیورسٹیوں کی علمی فضاؤں میں خدا کا ذکر کم اور سائنسی استدلال زیادہ سنائی دیتا ہے۔ اسی ماحول میں کئی نسلیں ایسی پروان چڑھیں جن کے نزدیک مذہب صرف ماضی کے جھگڑوں اور جنگوں کا عنوان ہے۔ لیکن انہی فضاؤں میں کبھی کبھار ایسے قلوب بھی جنم لیتے ہیں، جو فطرت کے ساتھ ساتھ خالقِ فطرت کو تلاش کرنے لگتے ہیں۔

مذہب بیزاری، الحاد اور روحانی خلا کے اس ماحول میں ایک لڑکی ماریا نے آنکھ کھولی۔ اس کے والدین جنوبی افریقہ سے ہجرت کرکے امریکہ آئے تھے اور دہریہ خیالات رکھتے تھے۔ گھر میں کبھی خدا کا ذکر نہ ہوتا، نہ مذہب کو کوئی اہمیت دی جاتی۔ ماریا نے بھی انہی تصورات میں پرورش پائی اور بچپن ہی سے مذہب کو محض تنازعات اور جنگوں کا سبب سمجھتی رہی۔

ماریا کی ذہانت اور محنت نے اسے کولوراڈو یونیورسٹی بولڈر تک پہنچا دیا۔ وہاں وہ ایک ایسی فضا میں داخل ہوئی جہاں سائنس اور جدیدیت کے ساتھ ساتھ ’’خدا کی موت‘‘ کا اعلان کرنے والی فکر نمایاں تھی۔ اس کے اردگرد بیشتر طلبہ اور اساتذہ مذہب سے بیزار تھے۔ ماریا نے بھی خود کو ’’مکمل دہریہ‘‘ سمجھنا شروع کر دیا۔ وہ گرجا گھروں سے دور رہی، مذہبی تقریبات کا مذاق اڑاتی اور خدا کے وجود کو محض انسانی وہم قرار دیتی۔

اسی دوران اس کی ملاقات ایک پاکستانی نژاد مسلمان لڑکے سے ہوئی۔ ابتدا میں ماریا کی سوچ اس کے بارے میں نہایت منفی تھی۔ اس نے اسلام کو سختی، شدت پسندی اور دقیانوسیت سے جوڑ رکھا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ مسلمان عورتیں ظلم کا شکار ہیں اور اسلام آزادی کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ لیکن وقت گزرتا گیا تو وہ یہ دیکھ کر حیران ہوئی کہ یہ نوجوان نہ صرف خوش اخلاق، شائستہ اور ذمہ دار ہے، بلکہ دوسروں کی مدد کے لیے بھی ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ اس کی شخصیت نے ماریا کے ذہن میں پہلی بار اسلام کے بارے میں ایک مثبت سوال پیدا کیا۔

ماریا اور یہ نوجوان رفتہ رفتہ ایک دوسرے کے قریب آئے۔ رشتہ بڑھا تو ان کی منگنی ہو گئی۔ ماریا نے اپنی زندگی کو خوشیوں سے بھرپور دیکھا۔ لیکن تقدیر کے کھیل نرالے ہوتے ہیں۔ ایک دن ایک حادثہ پیش آیا، جس نے اس کی کایا پلٹ دی۔ اس کا منگیتر ایک سڑک حادثے میں اچانک موت کا شکار ہوگیا۔ یہ صدمہ ماریا کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ دن رات روتی، غم کے سمندر میں ڈوبی رہتی۔ اس کی دنیا بکھر گئی۔

اسی اذیت ناک وقت میں ماریا نے سوچنا شروع کیا کہ زندگی اور موت کا اصل راز کیا ہے؟ اگر سب کچھ محض حادثہ ہے تو پھر انسان کے وجود کی معنویت کیا ہے؟ کیا واقعی کوئی خالق نہیں؟ کیا موت سب کچھ ختم کر دیتی ہے؟ یہ سوالات اسے بے چین کرتے رہے۔ انہی دنوں اس نے اپنے منگیتر کے کمرے میں رکھا ہوا قرآنِ مجید دیکھا۔ ماریا نے پہلی بار دل کی سچی پیاس کے ساتھ قرآن کھولا اور پڑھنا شروع کیا۔

جوں جوں وہ قرآن کے صفحات پڑھتی گئی، اس کے دل پر عجیب سکون اترنے لگا۔ اسے محسوس ہوا جیسے یہ کتاب براہِ راست اس سے مخاطب ہے۔ سورۃ الفاتحہ کے الفاظ اس کے دل میں اتر گئے۔ اسے محسوس ہوا کہ دنیا کی ساری الجھنوں کا جواب اسی اک کتاب میں ہے۔ قرآن نے اسے بتایا کہ انسان کی زندگی کا مقصد محض کھانا پینا یا مادی ترقی نہیں، بلکہ اپنے رب کو پہچاننا، اس سے تعلق قائم کرنا اور اس کی عبادت کرنا ہے۔

ماریا نے گھنٹوں، دنوں اور ہفتوں پر قرآن کا مطالعہ کیا۔ رفتہ رفتہ اس کا دل گواہی دینے لگا کہ یہی سچ ہے اور پھر ایک دن اس نے زبان سے بھی وہی الفاظ ادا کر دیئے جو دل میں اتر چکے تھے:

"اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد ان محمدا رسول اللہ"

یہ لمحہ اس کی زندگی کا نیا جنم تھا۔ وہ ماریا سے ’’مریم‘‘ بن گئی۔

اسلام قبول کرنے کے بعد ماریا نے ایک نئی دنیا کا تجربہ کیا۔ اس نے پہلا روزہ رکھا تو حیران رہ گئی کہ بھوک اور پیاس کے باوجود دل میں ایک ناقابلِ بیان سکون اور خوشی ہے۔ اس نے پہلی بار حجاب اوڑھا تو یوں لگا جیسے عزت و وقار کا تاج سر پر رکھ لیا ہو۔ اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ چیزیں جنہیں وہ پہلے پابندی سمجھتی تھی، دراصل آزادی اور حفاظت کی ضمانت ہیں۔

لیکن یہ راستہ آسان نہ تھا۔ اس کے اپنے خاندان نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اسلام چھوڑ دے، یہ تیرے لیے صحیح نہیں۔ یونیورسٹی میں بعض دوستوں نے بھی مذاق اڑایا۔ لیکن ماریا کا دل ایمان کی روشنی سے بھر چکا تھا۔ وہ کہتی ہے: ’’میں نے اپنے منگیتر کی موت میں زندگی کا پیغام پایا۔ اگر وہ حادثہ نہ ہوتا تو شاید میں کبھی قرآن کی طرف نہ آتی۔‘‘

آج ماریا کولوراڈو کی وادیوں میں رہتے ہوئے بھی ایک نئی دنیا کی باسی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ’’اسلام نے مجھے وہ سکون دیا جو میں برسوں کی دہریت میں تلاش نہ کر سکی۔‘‘ وہ نوجوان مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کو نصیحت کرتی ہے کہ اپنے دین پر فخر کریں، قرآن کو تھامے رکھیں اور کبھی یہ نہ سمجھیں کہ مغربی ترقی ہی سب کچھ ہے۔

ماریا کی یہ کہانی صرف ایک فرد کی زندگی نہیں، بلکہ اس عہد کی داستان ہے، جہاں مادی ترقی نے دلوں سے سکون چھین لیا ہے۔ بولڈر جیسے جدید اور روشن خیال شہر میں پرورش پانے والی ایک دہریہ لڑکی کا اسلام کی آغوش میں آنا اس بات کی گواہی ہے کہ قرآن آج بھی زندہ معجزہ ہے، جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو سہارا دیتا ہے اور بھٹکی ہوئی روحوں کو راستہ دکھاتا ہے۔

نوٹ:

یہ اقتباس  "روشنی کے مسافر" کی دوسری اور زیر تکمیل جلد سے لیا گیا ہے۔ پہلی جلد چند روز قبل چھپ چکی ہے۔ جسے گھر بیٹھے منگوانے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے: 03333603341

حوالہ:https://islamconverts.wordpress.com/2013/02/08/my-fiancees-death-led-me-to-islam-i-was-reading-the-quran-and-it-all-came-clear-to-me/?utm_source=chatgpt.com




منسلکات

التالي
ترکیہ کے صدر محترم ایردوان سے اتحاد عالمی کے وفد کی ملاقات کی روداد
السابق
اسلام سے نفرت کرنے والا امریکی فوجی، جو اسلام کی تبلیغ کرنے لگا

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں