ترکیہ کے صدر محترم ایردوان سے اتحاد عالمی کے وفد کی ملاقات کی روداد
ترکیہ کے
صدر محترم رجب طیب ایردوان سے "غزہ: ایک اسلامی اور انسانی ذمہ داری" کے
عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں شریک علما کے وفد کو میری سربراہی میں (کیونکہ میں
کانفرنس اور اتحاد دونوں کا صدر تھا) جمعہ 29 اگست 2025ء کو استنبول میں ایاصوفیہ
جامع مسجد میں جمعے کی نماز کے فوراً بعد کانفرنس کے اختتامی بیان کے اعلان کے بعد
تفصیلی ملاقات ہوئی ۔اور غزہ اور بیت المقدس کے دفاع کے تعلق سے اہم ترین امورزیر
غور آئے.
اختتامی
بیان میں اہم فیصلوں اور سفارشات کا ایک بڑا حصہ شامل تھا، جن میں نمایاں ترین تین
بڑے عالمی منصوبوں کا اعلان تھا۔ اسی کے ساتھ عرب و اسلامی ممالک کو اس امر کا ذمہ
دار قرار دیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین اور اپنی خودمختاری کا دفاع کریں، کیونکہ نتن یاہو
انہیں "اسرائیل کبریٰ" کے خواب کی تکمیل کے لیے—یعنی "نیل سے فرات
تک ارضِ موعود"—پر قبضے کا نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
یہ اس لیے
کہ زمین اور خودمختاری کا دفاع شرعی فریضہ ہے، عملی ضرورت ہے، اور قومی و وطنی ذمہ
داری ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَأَعِدُّوا
لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ
عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ﴾ (الأنفال:
60)
یہ آیت
واضح طور پر دلالت کرتی ہے کہ امت کو ایک ایسی دفاعی قوت ضرور حاصل ہونی چاہیے جو
دشمن کو جارحیت سے روک دے۔ اسلام میں طاقت جارحیت کے لیے نہیں بلکہ جارحیت کو
روکنے اور دشمن کو ڈرانے کے لیے ہے تاکہ وہ مسلمانوں اور ان کی سرزمین و خودمختاری
پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرے۔ اسی لیے کہا گیا کہ نتن یاہو کے اعلان کے بعد کا
زمانہ، اعلان سے پہلے کے زمانے سے مختلف ہونا چاہیے۔
اسی پس
منظر میں کانفرنس نے اسے اپنا موضوع اور شعار بنایا ، جیسا کہ ابتدا میں بھی سلطان
ایوب انصاری جامع مسجد کے افتتاحی بیان میں کہا گیا تھا:
"اے
عربوں اور مسلمانوں! میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ صرف غزہ کا دفاع کرو، بلکہ یہ کہتا
ہوں کہ سب سے پہلے اپنے آپ کو صہیونی قبضے اور نئے مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کی تبدیلی
کی سازش سے بچاؤ۔"
صدر
محترم نے جب ہمارے وفد سے ملاقات کی تو نہایت عزت و احترام کے ساتھ خوش آمدید کہا،
پھر ایک پراثر تقریر فرمائی۔ انہوں نے حمد و ثنا کے بعد عالمی اتحاد برائے مسلم
اسکالرز کا شکریہ ادا کیا اور "غزہ: ایک اسلامی اور انسانی ذمہ داری"
کانفرنس کی تعریف کی جس میں پچاس ممالک سے ڈیڑھ سو سے زیادہ علما شریک ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا:
"میں نے
روزانہ کانفرنس کی کارروائی کو ملاحظہ کیا۔ یہ ایک مضبوط آغاز کے ساتھ شروع ہوئی
اور ایاصوفیہ جامع مسجد میں نہایت واضح اور جاندار انجام کے ساتھ مکمل ہوئی۔"
پھر
انہوں نے حدیث شریف بیان کی:
"المسلم
أخو المسلم لا يظلمه ولا يخذله"
(مسلمان
مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے بے یار و مددگار چھوڑتا
ہے) [بخاری 6064، مسلم 2564]۔
صدر
محترم نے مزید فرمایا کہ آج غزہ ایک نہایت ہولناک اور تکلیف دہ المیے سے گزر رہا
ہے، وہ بدترین وحشیانہ مظالم کا شکار ہے۔ افسوس کہ اسلامی دنیا غزہ کے امتحان میں
کامیاب نہیں ہوئی اور اس کی شدید بے بسی کھل کر سامنے آگئی ہے، جب کہ مغرب کے
دوہرے معیار بھی سب پر واضح ہیں۔
انہوں نے
کہا کہ ترکی نے اپنی ذمہ داری کے مطابق ہر ممکن نصرت اور امداد فراہم کی ہے: تمام
اقتصادی تعلقات ختم کر دیے، اپنی بندرگاہیں اسرائیل پر بند کر دیں، اگرچہ صہیونی
لابی کے دباؤ اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کی پرواہ کیے بغیر۔ پھر فرمایا:
"آپ
علما بھی اسی اخوت کے جذبے سے سرگرم عمل ہیں۔
ان شاء اللہ صہیونیت کا ظلم شکست کھائے گا۔"
صدر کی
تقریر کے بعد ترکی کے صدرِ امورِ دینیہ ڈاکٹر علی ارباش نے خطاب کیا اور دینیہ کے
عظیم کاموں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز، وقف علما
الاسلام اور کانفرنس کی بھرپور تعریف کی۔ اس کے بعد پروفیسر ڈاکٹر نصر اللہ مفتی
اوغلو، شیخ محمد الحسن الددو، اور پروفیسر ڈاکٹر محمد جورماز نے بھی اپنے خیالات
کا اظہار کیا۔
صدرِ
امورِ دینیہ کی تقریر کے بعد میں (علی قرہ داغی) نے گفتگو کی ۔ میں نے حمد و صلاۃ
کے بعد صدر محترم کا علما کے پرتپاک استقبال اور ان کی مؤثر تقریر پر شکریہ ادا کیا،
اور صدرِ امورِ دینیہ کی کانفرنس میں بابرکت خدمات پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
پھر میں نے صدر محترم کو غزہ کے مسئلے اور جارحیت روکنے کی ضرورت پر مخاطب کیا،
کانفرنس کے خلاصہ اور فیصلوں کو پیش کیا، اور ان کی اجازت سے تیار کردہ پیغام پڑھ
کر سنایا جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ سنا۔
میں نے
صدر کو اس خط کی بھی یاد دہانی کرائی جو پہلے میں نے ان کی خدمت میں ارسال کیا
تھا۔ اس میں ایک عملی تجویز دی گئی تھی کہ وہ دنیا اسلام کے چند مؤثر سربراہان کو
ایک چھوٹی سی سربراہی کانفرنس میں جمع کریں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو غزہ پر
حملے روکنے کے لیے اس میں مدعو کریں۔ میری تجویز تھی کہ اس کانفرنس میں ترکی،
انڈونیشیا، پاکستان، سعودی عرب، قطر، ملائشیا اور نائیجیریا کے سربراہان شریک ہوں۔
الحمد للہ صدر محترم نے اس تجویز کو قبول کیا اور فرمایا کہ وہ اسے ستمبر میں
اقوام متحدہ میں ان سربراہان کے ساتھ پیش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اور سب کو خیر
کی توفیق دے۔
یہ نشست
نہایت دوستانہ اور صاف گوئی پر مبنی تھی۔ مختلف خطابات اور کلمات نے مشترکہ موقف
اور باہمی تعاون کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا۔
(صدر اتحاد
عالمی برائے مسلم اسکالرز)