عالمی اتحاد برائے
مسلم اسکالرز "اسطول الصمود" پر حملے کی مذمت کرتا ہے اور غزہ کا محاصرہ
توڑنے والی قافلوں کی حمایت کی تجدید کرتا ہے
انتہائی غم و غصے اور سخت مذمت کے
ساتھ، عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز اسٹیمر "فامیلی" پر حملے کی شدید
الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جو "اسطول الصمود" میں شامل مرکزی کشتی تھی جس
کا مقصد غزہ کا محاصرہ توڑنا تھا۔ یہ حملہ تیونس کے ساحل کے قریب ایک آتش گیر ڈرون
کے ذریعے کیا گیا، جس کے نتیجے میں کشتی میں آگ بھڑک اٹھی۔
اتحاد اس بزدلانہ حملے کو ایک
مکمل جنگی جرم، دہشت گردی کا عمل اور صہیونی نازی فاشسٹ مشین کی طرف سے کی جانے
والی قزّاقی قرار دیتا ہے۔
اتحاد درج ذیل امور
کی تاکید کرتا ہے:
اوّل: عوامی
قافلوں کی حمایت
اتحاد "اسطول الصمود"
کے بابرکت آغاز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے
درجنوں کارکن شامل ہیں۔ یہ عوامی اقدامات غزہ کے ظالمانہ محاصرے کے خاتمے کے لیے ایک
تازہ امید ہیں۔
دوم: یکجہتی
میں تاریخی تبدیلی
یہ وسیع عوامی شمولیت عالمی یکجہتی
کے سفر میں ایک اہم تبدیلی کی عکاس ہے، اور صہیونی قبضے کی طرف سے فلسطینی عوام کے
خلاف جاری نسل کشی کے جرائم کے مقابلے میں خاموشی کی دیوار توڑنے کی علامت ہے۔
سوم: سرکاری
خاموشی کی مذمت
اتحاد واضح کرتا ہے کہ غزہ میں
جاری قتلِ عام، محاصرہ اور منظم بھوک ماری تاریخِ امت کے بدترین جرائم میں سے ہے۔
اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ امر مسلم حکومتوں کی خاموشی اور بے اعتنائی ہے، خاص طور
پر مصر اور اردن کی حکومتوں کا رویہ ان ہولناک مظالم کے سلسلے میں۔
چہارم: اتحاد
اور عملی اقدام کی دعوت
اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم ممالک دنیا
کے آزاد انسانوں کے ساتھ مل کر ٹھوس اور فیصلہ کن اقدامات کریں، جن میں شامل ہوں:
مکمل بائیکاٹ، صہیونی ریاست سے تعلقات کا خاتمہ اور ہر طرح کے نارملائزیشن (تطبیع)
کا انسداد۔
پنجم: عوامی
تحریک کی ستائش
اتحاد دنیا کے اسلامی اور آزاد
معاشروں میں ابھرتی ہوئی عوامی تحریک کو سراہتا ہے، جو اب اپنے ثمرات دینا شروع کر
رہی ہے، اور متعدد ممالک بالخصوص یورپ کی پارلیمانوں میں نمایاں پوزیشن اختیار کر
چکی ہے۔
آخر میں اتحاد اس بات پر زور دیتا
ہے کہ غزہ کے بہادر اور ثابت قدم عوام پوری امت کے لیے عزت و وقار کا مینار اور
کرامت کی علامت رہیں گے، اور ان کی نصرت کا فریضہ دین، ضمیر اور انسانیت کا ایسا
فرض ہے جس میں پیچھے ہٹنے یا سودے بازی کی کوئی گنجائش نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ﴾
[النساء: 75].
دوحہ: 18 ربیع الاول 1447ھ
مطابق: 10 ستمبر 2025ء
ڈاکٹر
علی محمد الصلّابی پروفیسر ڈاکٹر
علی قرہ داغی
سیکرٹری جنرل صدر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على
الترجمة البيان باللغة العربية، اضغط (هنا).