عالمی اتحاد برائے
مسلم اسکالرز کا دوحہ سربراہی اجلاس کے موقع پر عرب و اسلامی ممالک کے معزز و
محترم سربراہان کے نام ہنگامی پیغام
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز
نے دوحہ میں جمع ہونے والے عرب و اسلامی ممالک کے معزز و محترم سربراہان کے نام ایک
ہنگامی اور کھلا پیغام بھیجا ہے، جس میں انہیں اللہ، تاریخ اور امت کے سامنے اپنی
تاریخی ذمہ داری ادا کرنے اور موجودہ وجودی خطرات سے امت کو بچانے کے لیے فوری اور
عملی اقدامات کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
آئندہ پیر کے روز دوحہ میں عرب و
اسلامی ہنگامی سربراہی اجلاس منعقد ہوگا، جو خطے کی حالیہ پیش رفتوں کے پس منظر میں
بلایا گیا ہے۔
اتحاد نے کہا کہ غزہ میں صیہونی
قبضہ گروہ کے ہاتھوں جاری اجتماعی نسل کشی اور ہولناک قتلِ عام، دشمن کے مزید عرب
و اسلامی سرزمین پر قبضے کے منصوبوں کے اعلانات، شام، لبنان اور ایران میں اس کی
سنگین خلاف ورزیاں، حتیٰ کہ قطر کی خودمختاری کو دھمکیاں—یہ سب امت کے رہنماؤں سے
ایک فیصلہ کن اور تاریخی موقف کا تقاضا کرتے ہیں۔
پیغام میں واضح کیا گیا کہ اب
معاملہ سرحدوں یا جزوی مسائل تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ امت کے وجود اور بقا کا
سوال ہے۔ آج کی ہچکچاہٹ کل کے پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں لائے گی: “ولات حين مندم”۔
اسی تناظر میں اتحاد نے اجلاس کے
سامنے چند فوری مطالبات رکھے:
1- صیہونی
دشمن کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات کا فوری خاتمہ، جو ہر عہد اور
معاہدے کو توڑ چکا ہے۔
2-
امت میں مکمل مصالحت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سچے رجوع کے ساتھ مادی و معنوی طاقت
کے اسباب اختیار کرنا۔
3-
امت کی وحدت اور اختلافات پر قابو پانے کی کوشش، کیونکہ تنازع صرف ناکامی اور ذلت
کا سبب بنتا ہے۔
4- ایک
جامع حکمتِ عملی مرتب کرنا، جو سیاسی، اقتصادی، سائنسی اور عسکری سطح پر ترقی و بیداری
کا باعث ہو، اور وسائل و ذخائر سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔
5- صیہونی منصوبے کے خلاف بیداری کے ساتھ اقدام،
جو ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے قیام کا خواب دیکھ رہا ہے اور فلسطینی عوام کے کسی بھی حق
کو تسلیم نہیں کرتا۔
6-
اہلِ غزہ اور ان کی جائز مزاحمت کی بھرپور حمایت، جسے شرعی فریضہ اور صیہونی توسیع
پسندی کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ قرار دیا گیا۔
7- سرحدی
گذرگاہیں فوری طور پر کھولنے اور محاصرہ ختم کرنے کے ساتھ انسانی قتلِ عام روکنے
کے لیے دباؤ ڈالنا۔
8- آزاد دنیا اور انسانی و بین الاقوامی اداروں
کو دعوت دینا کہ وہ قابض اسرائیل کے جرائم کو بے نقاب کریں اور اس کے ظلم کا سیاسی،
ابلاغی اور قانونی سطح پر مقابلہ کریں۔
اتحاد نے اپنے پیغام کے آخر میں
زور دیا کہ آج قائدین ایک فیصلہ کن موڑ پر ہیں: یا تو وہ امت کے محافظ اور اس کی
عزت و وقار کے علمبردار ثابت ہوں گے، یا پھر صیہونی مجرم منصوبے کو موقع دیں گے جو
امت کے وجود اور وقار کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اتحاد نے اس اعتماد کا اظہار کیا
کہ اگر قائدین جرات مندانہ فیصلہ کریں تو مسلم عوام اور دنیا کے آزاد لوگ ان کے پیچھے
کھڑے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ صیہونی منصوبہ اب بکھرنے لگا ہے اور اللہ کا وعدہ
مظلوموں کی نصرت کا قریب ہے، جیسا کہ ارشادِ باری ہے: ﴿فَإِذَا
جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ لِيَسُوءُوا وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ
كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِيرًا﴾
[الإسراء: 7]
اللہ اپنے حکم پر غالب ہے لیکن
اکثر لوگ نہیں جانتے۔
﴿وَسَيَعْلَمُ
الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ﴾ [الشعراء: 227]
(ماخذ: عالمی اتحاد
برائے مسلم اسکالرز)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على
الترجمة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).