بحث وتحقیق

تفصیلات

لاہور، پاکستان میں شیخ علی محیی الدین القره داغی کی امامت میں 40 ہزار سے زائد مقتدیوں نے نماز ادا کی

لاہور، پاکستان میں شیخ علی محیی الدین القره داغی کی امامت میں 40 ہزار سے زائد مقتدیوں نے نماز ادا کی

 

لاہور شہر کے گلشن اقبال میں گزشتہ روز 21 نومبر کو جمعہ کی نماز میں 40 ہزار سے زائد مرد و خواتین نے شرکت کی۔ نماز اور خطبہ کو 11 سے زیادہ ٹی وی چینلز پر براہِ راست نشر کیا گیا۔

اس موقع پر عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کے صدر محترم شیخ پروفیسر ڈاکٹر علی محیی الدین القره داغی نے خطبہ دیا اور امامت کرائی، جبکہ جماعتِ اسلامی کی اعلیٰ قیادت بھی موجود تھی۔

شیخ نے خطبہ کا آغاز حمدِ باری تعالیٰ سے کیا اور اس حقیقت کی جانب توجہ دلائی کہ امتِ مسلمہ، باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ’’خیر امت‘‘ قرار دیا ہے، آج انتشار، کمزوری اور پسماندگی سے دوچار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ﴾ (آل عمران: 110)

 

خیرِ امّت اور وحدتِ اسلامی

انہوں نے مزید کہا کہ عہدِ رسالت میں امت کی خیر و فضیلت دنیا و آخرت دونوں پہلوؤں پر محیط تھی، جو وحی، عقل اور متوازن فکر کے ساتھ مربوط تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس امت کو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائیاں عطا ہوئیں، جیسا کہ دعا میں ہے: ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً﴾ (البقرة: 201)

شیخ نے کہا کہ اُس دور میں نماز، روزہ اور دیگر عبادات ظاہر و باطن کے کامل امتزاج کے ساتھ انجام دی جاتی تھیں، جو حقیقی تقویٰ اور مقاصدِ شریعت کی پاسداری کا مظہر تھا۔ اسی کے ساتھ تعمیر و ترقی بھی اسلامی تہذیب کا بنیادی ستون تھا۔

فقہ، سائنس اور دیگر شعبوں میں امام ابوحنیفہ، خوارزمی اور ابن الہیثم جیسے نابغۂ روزگار شخصیات اُبھریں، جن کی کتابیں جدید دور تک یورپی جامعات میں پڑھائی جاتی رہیں۔

تدین اور تعمیر کا توازن

انہوں نے توجہ دلائی کہ چوتھی صدی ہجری کے بعد اسلامی تہذیب میں بتدریج ضعف پیدا ہوا، جس کی وجہ جمود، تقلید اور صرف ظاہری دینداری پر اکتفا تھا، جبکہ تعمیر و ترقی، علوم اور تخلیقی صلاحیتیں پسِ پشت ڈال دی گئیں۔ اس کا اثر صحیح معنوں میں استخلاف اور عبودیت کے توازن پر پڑا۔

شیخ نے زور دیا کہ امت کی خیر و رفعت کی طرف واپسی کے لیے ضروری ہے کہ ظاہری و باطنی دینداری کے ساتھ ساتھ تعلیم، تہذیب، ترقی اور اجتماعی فلاح کے جامع تصور کو بحال کیا جائے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ اور بعد کے اصلاح کاروں نے نمونہ قائم کیا۔

آخر میں شیخ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امت کو پھر سے خیر، وحدت اور بیداری کے راستے پر واپس لائے، اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی کامل پیروی دنیا و آخرت کی کامیابی کا واحد ذریعہ ہے۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ محترم شیخ کی پاکستان آمد جماعتِ اسلامی کی دعوت پر ہوئی، جہاں وہ 21 تا 23 نومبر 2025 کے دوران ہونے والے جماعت کے عام اجلاس اور ساتھ ہی بین الاقوامی فورم "اسلام اور ایک منصفانہ عالمی نظام کی تلاش" میں بھی شرکت کر رہے ہیں۔

(ماخذ: الاتحاد)

 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* للاطلاع على الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).




منسلکات

التالي
اسلام آباد :’’فقہ الموازنات فی الدعوة إلى الله‘‘ کے عنوان سے ایک فکری و علمی سیمینار کا انعقاد
السابق
اربیل میں شعور اور شناخت پر بین الاقوامی کانفرنس میں کردستان شاخ کی مؤثر شرکت

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں