بحث وتحقیق

تفصیلات

اسلام آباد :’’فقہ الموازنات فی الدعوة إلى الله‘‘ کے عنوان سے ایک فکری و علمی سیمینار کا انعقاد

اسلام آباد :’’فقہ الموازنات فی الدعوة إلى الله‘‘ کے عنوان سے ایک فکری و علمی سیمینار کا انعقاد

 

اسلام آباد:

دعوۃ اکیڈمی کے شعبۂ تربیتِ ائمہ وخطبا کے زیرِ اہتمام ’’فقہ الموازنات فی الدعوة إلى الله‘‘ کے عنوان سے ایک فکری و علمی سیمینار منعقد ہوا، جس کے مہمان مقرر پروفیسر ڈاکٹر علی بن خضران العمری سابق پروفیسر کنگ خالد یونیورسٹی سعودی عرب، چیئرمین شریعۃ ڈیپارٹمنٹ فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لاء بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد تھے۔

سیمینار میں یونیورسٹی کے طلباء، مختلف فیکلٹیز و اکیڈمیز کے اساتذہ اور دیگر علماء ودعاۃ شریک ہوئے۔

پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا۔

تلاوت کے بعد مہمان مقرر پروفیسر ڈاکٹر علی بن خضران العمری نے موضوع "فقہ الموازنات فی الدعوة إلى اللہ" پر عربی زبان میں نہایت جامع اور علمی گفتگو کی۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ دعوتِ دین محض جذباتی محنت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک منظم، حکیمانہ اور اصولوں پر مبنی عمل ہے، جس میں مقاصد شرعیہ کی روشنی میں ترجیحات، مصالح اور مفاسد کا درست بر موقع ادراک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ فقہ الموازنات دراصل وہ اصولی پیمانہ ہے جس کے ذریعے ایک داعی حالات، مواقع اور نتائج کو سامنے رکھ کر دعوتی حکمتِ عملی طے کرتا ہے۔

انہوں نے اس موضوع کو مقاصدِ شریعت کے تناظر میں تفصیلی طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ شریعت کی تمام ہدایات تین بنیادی مقاصد پر قائم ہیں:

ضروريات؛ جن میں دین، جان، نسل، مال اور عقل کے تحفظ جیسے بنیادی اہداف شامل ہیں۔

حاجيات؛ جن کا تعلق انسان کی آسانیوں، سہولیات اور بعض مشقتوں کے ازالے سے ہے۔

تحسينيات؛ جن کے ذریعے معاشرہ اخلاق، تہذیب اور روحانی جمال سے آراستہ ہوتا ہے۔

انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں فقہ الموازنات کی شرعی تاصیل پیش کرتے ہوئے متعدد نصوص کا حوالہ دیا، اور بتایا کہ نبی کریم ﷺ کی ساری دعوتی حکمت میں ترجیحات اور مصالح کا گہرا التزام ملتا ہے، مزید برآں انہوں نے موجودہ دور کے دعوتی ماحول میں ان اصولوں کی عملی تطبیق پر مدلل گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آج داعی کے لئے ضروری ہے کہ وہ مخاطب کے مزاج، معاشرتی ماحول، ابلاغ کے جدید ذرائع، اور موجودہ فکری چیلنجز کو بھی بیک وقت سامنے رکھے۔ انہوں نے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات نرم اسلوب سخت اسلوب سے زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے، کسی جگہ براہ راست دعوت فائدہ دیتی ہے جبکہ کہیں ہمدردانہ سماجی کردار زیادہ اثر چھوڑتا ہے۔

مہمان مقرر کے خطاب کے بعد ڈائریکٹر جنرل دعوۃ اکیڈمی پروفیسر ڈاکٹر محمد الیاس نے اپنے صدارتی کلمات پیش کیے، انہوں نے کہا کہ فقہ الموازنات کا موضوع آج کے داعی کے لئے بنیادی رہنمائی فراہم کرتا ہے، کیونکہ موجودہ دور میں داعی کو حکمت، حالات کے فہم اور ترجیحات کے صحیح تعین کی بہت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معزز مہمان نے مقاصدِ شریعت کی روشنی میں جو اصول پیش کیے وہ دعوتی چیلنجز کے مقابلے میں متوازن اور مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرنے میں مدد دیتے ہیں، اور دعوۃ اکیڈمی اسی فکری توازن کو فروغ دینے کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس موقع پہ صدرِ جامعہ کے وژن اور ان کے خصوصی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دعوۃ اکیڈمی کی تمام دعوتی وتربیتی سرگرمیاں صدرِ جامعہ کی رہنمائی اور سرپرستی کے مطابق آگے بڑھ رہی ہیں، اور ان شاء اللہ ایسے علمی پروگرامز مستقبل میں بھی داعیانِ دین کے لئے رہنمائی اور عملی بصیرت فراہم کرتے رہیں گے۔

پروگرام کے اختتام پر دعوۃ اکیڈمی کی جانب سے مہمانِ خصوصی کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی جبکہ تمام شرکاء کو اسنادِ شرکت سے نوازا گیا۔

پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر حافظ عبد المنان زاہدی، انچارج شعبہ تربیت ائمہ و خطباء، نے سر انجام دئے۔




منسلکات

التالي
شیخ علی قرہ داغی کی اہلِ شام کو ’’ردِّ جارحیت‘‘ کی سالگرہ پر مبارک باد: وہ دن جب عوامی ارادہ فتح یاب ہوا
السابق
لاہور، پاکستان میں شیخ علی محیی الدین القره داغی کی امامت میں 40 ہزار سے زائد مقتدیوں نے نماز ادا کی

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں