بحث وتحقیق

تفصیلات

شیخ علی قرہ داغی کی اہلِ شام کو ’’ردِّ جارحیت‘‘ کی سالگرہ پر مبارک باد: وہ دن جب عوامی ارادہ فتح یاب ہوا

شیخ علی قرہ داغی کی اہلِ شام کو ’’ردِّ جارحیت‘‘ کی سالگرہ پر مبارک باد: وہ دن جب عوامی ارادہ فتح یاب ہوا

 

اتحاد عالمی برائے مسلم اسکالرز کے صدرشیخ علی محی الدین قرہ داغی،  نے ’’ردِّ جارحیت اور شام کی آزادی‘‘ کے معرکے کی تکمیل کو ایک سال گزرنے پر شامی عوام کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ یادگار دن مضبوط روحانی اور قومی معنویت رکھتا ہے، اور اس لمحے کی عکاسی کرتا ہے جب ’’اللہ کی طاقت‘‘ نمایاں ہوئی اور یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ جب قومیں اپنے ارادے کو یکجا کر لیتی ہیں تو فتح ان کا مقدر بنتی ہے۔

فتح: عوامی ارادہ اور خدا کا وعدہ

قرہ داغی نے اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر ایک پیغام میں کہا کہ اس سال جس واقعے کی یاد شامی منا رہے ہیں، اس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ ’’اللہ کی مشیت جابروں کی مشیت سے بالاتر ہے‘‘۔ انہوں نے زور دیا کہ فتح ایسے لمحے میں حاصل ہوئی جب ’’سیاسی حساب کتاب عاجز آ گیا اور سودے بازی کی میزیں الٹ گئیں‘‘، اور بالآخر صرف اللہ کی مشیت ہی غالب رہی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ واقعہ ’’اللہ کے عدل کی نشانیوں میں سے ایک نشانی‘‘ ہے جب وہ جلوہ گر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق جو قومیں نیت میں سچی ہوں اور قوت کے اسباب اختیار کریں، ’’اللہ خود ان کی رہنمائی سنبھال لیتا ہے اور ان کے لیے ایسے دروازے کھول دیتا ہے جنہیں وہ کبھی قریب بھی نہ سمجھتی تھیں‘‘۔

قرہ داغی نے اس معرکے کے دوران شامی عوام کے عزم و استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ ’’جب دل اپنے رب سے جڑ جائیں اور ہاتھ حق کے ایک کلمے پر جمع ہو جائیں تو ناممکن ٹوٹ جاتا ہے، ظلم ڈھہ جاتا ہے اور تاریخ نئے سرے سے لکھی جاتی ہے‘‘۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس ’’فتح‘‘ کو ثابت قدم رکھے، شامی قیادت اور عوام کو ’’ایسی بصیرت عطا فرمائے جو غرور میں مبتلا نہ کرے، اور ایسا تواضع دے جو بدلنے نہ پائے‘‘، اور اس مرحلے کا انجام ’’ترقی، عدل اور دانائی‘‘ پر ہو۔ ساتھ ہی ریاستی قوت کی تعمیر اور شہریوں کے لیے اطمینان کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔

آخر میں قرہ داغی نے شام اور اس کے باشندوں کے لیے ’’مکاروں کی چالوں‘‘ سے حفاظت، برکت، توفیق اور ہدایت کی دعا کی اور کہا: ’’اور فتح تو صرف اللہ کی جانب سے ہے‘‘۔

معرکۂ ردِّ جارحیت

’’معرکۂ ردِّ جارحیت‘‘ شمال مغربی شام میں انقلابی دھڑوں کی جانب سے نومبر 2024 کے اواخر میں شروع کی گئی سب سے بڑی عسکری کارروائی ہے، جو سابق نظام کی فوجی شدت اور کنٹرول کے علاقوں میں توسیع کے ردِعمل میں کی گئی۔

بارہ دن کے اندر جنگجو دمشق میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور بشار الاسد (2000–2024) کے نظام کے خاتمے کا اعلان کیا، جو اپنے والد حافظ الاسد (1970–2000) سے اقتدار وراثت میں لے کر آیا تھا۔ بعد ازاں وہ ماسکو فرار ہو گیا، جہاں اس اور اس کے خاندان کو پناہ دیے جانے کی تصدیق کی گئی۔

اسد خاندان کے دہائیوں پر مشتمل دورِ اقتدار میں سخت سکیورٹی شکنجہ قائم رہا اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں ہوئیں، جس کے باعث شامی عوام اس دن کو قومی موقع کے طور پر دیکھتے ہیں جس دن انہیں اس نظام سے نجات ملی۔

(ماخذ: اتحاد + ایجنسیاں)

 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* للاطلاع على الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).




منسلکات

السابق
اسلام آباد :’’فقہ الموازنات فی الدعوة إلى الله‘‘ کے عنوان سے ایک فکری و علمی سیمینار کا انعقاد

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں