بحث وتحقیق

تفصیلات

شیخ قرہ داغی کی مجلس میں اسلامی زوال کے اسباب و اثرات پر گفتگو اور امت کی ترقی کے راستوں کی نشاندہی

شیخ قرہ داغی کی مجلس میں اسلامی زوال کے اسباب و اثرات پر گفتگو اور امت کی ترقی کے راستوں کی نشاندہی

 

عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کے مرکزی دفتر میں واقع شیخ جاسم بن محمد آل ثانی ہال میں ہفتہ کی شام، محترم شیخ ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی (صدر، عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز) کی مجلس کی اس سیزن کی نئی نشستوں کے سلسلے کی پہلی علمی نشست منعقد ہوئی، جس میں علما، اساتذہ، محققین اور علومِ شرعیہ کے طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

بڑا چیلنج

اس نشست کا نہایت اہم عنوان تھا: "امتِ مسلمہ کا زوال: اسباب، اثرات اور حل کے طریقے"

نشست میں امتِ مسلمہ کو درپیش بڑے چیلنجز پر روشنی ڈالی گئی اور اس بات پر غور کیا گیا کہ کمزوریوں کا علاج کرکے علوم، اقدار اور معرفت کے معیار کو کس طرح بلند کیا جا سکتا ہے۔

محترم شیخ نے واضح کیا کہ زوال کوئی مطلق (Absolute) شے نہیں، بلکہ ایک نسبتی (Relative) حقیقت ہے، جو اس مثالی سطح کے ساتھ تقابل پر مبنی ہوتی ہے جس تک امت مختلف میدانوں میں پہنچ سکتی ہے۔

زوال کی علامات اور اسباب

نشست میں جدید مطالعات اور اعداد و شمار کی روشنی میں زوال کی مختلف علامات کا ذکر کیا گیا، جن میں غربت کی سطح، سائنسی تحقیق پر کم خرچ ہونا شامل ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ محض معاشی ترقی، پیش رفت کے لیے کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے اسلامی فکر کی پیش کردہ جامع نظریۂ ترقی کو اپنانا ضروری ہے، جس میں تعلیم، علم اور اقدار کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔

محترم شیخ نے زوال کے مختلف مراحل کا بھی تذکرہ کیا: ہر میدان میں مکمل زوال سے لے کر، بعض مخصوص شعبوں میں نسبتی زوال تک، پھر وہ بے سمت حرکت جو کسی واضح ہدف تک نہیں پہنچتی، اور آخرکار وہ یک رُخی حرکت جو ایک آمر کی گرفت میں ہوتی ہے۔

تاریخ سے سبق

محترم شیخ نے یورپی نشاۃِ ثانیہ میں کردار ادا کرنے والے عوامل کی طرف توجہ دلائی اور واضح کیا کہ امتِ مسلمہ ان تجربات سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتی ہے، خصوصاً اس وقت جب اس کے پاس خود علم و معرفت کے بے پناہ وسائل موجود ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی ترقی کے حصول کے لیے فقہُ المیزان (توازن کے فقہ) کے تحت دین اور دنیا کے درمیان اعتدال قائم کرتے ہوئے زوال کا علاج کیا جانا چاہیے۔

شرکا کے ساتھ کھلا مکالمہ

نشست کے اختتام سے قبل محترم شیخ نے حاضرین کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن رکھا، جس میں درج ذیل اہم امور زیر بحث آئے:

·     مادّی سیکولرزم پر انحصار کے باوجود مغرب کی کامیابی کا راز

·     غیر شرعی علوم کے طلبہ کی معاونت کے لیے زکوٰۃ کے استعمال کا شرعی حکم

·     اسلامی وژن کی بنیاد پر عملی ترقیاتی حکمتِ عملی کی تشکیل کا امکان

·     بعض اسلامی ممالک کی گزشتہ سو برس کے مقابلے میں حاصل شدہ ترقی، باوجود اس کے کہ معاشی و تکنیکی کامیابیاں حاصل ہوئیں اور قابض قوتوں کو نکالا گیا

نشست اختتام پذیر ہوئی تو شرکا نے بھرپور تحسین کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ایسی مجالس امتِ مسلمہ کی ترقیاتی فکر کی ازسرِنو تشکیل، اور علوم، معرفت و اقدار میں حقیقی بیداری کے لیے تعمیری مکالمے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔

(ماخذ: اتحاد)

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* للاطلاع على الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).




منسلکات

التالي
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کی طرف سے اسٹاک ہوم کی مسجد پر نسل پرستانہ حملے کی مذمت ، مقدسات کے تحفظ اور نفرت انگیز جرائم کے خاتمے کا مطالبہ (بیان)
السابق
ترکیہ: صدارتی فرمان کے تحت، پروفیسر ڈاکٹر محمد غورماز کا ترکی انٹرنیشنل یونیورسٹی برائے اسلام، علوم و ٹیکنالوجی کا صدر (ریکٹر) کے عہدے پر تقرر

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں