بحث وتحقیق

تفصیلات

“اسلامی بینکاری ترقی کے حصول اور اسلامی معیشت کے استحکام کے لیے ایک اسٹریٹجک دروازہ ہے”:شیخ علی محی الدین قرہ داغی

“اسلامی بینکاری ترقی کے حصول اور اسلامی معیشت کے استحکام کے لیے ایک اسٹریٹجک دروازہ ہے”:شیخ علی محی الدین قرہ داغی

 

عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کے صدر محترم شیخ پروفیسر ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی نے جمعہ کی شام اسلامی بینکاری اور جامع ترقی کے حصول میں اس کے کلیدی کردار پر اپنی فکر انگیز رائے پیش کی۔ یہ گفتگو انہوں نے موریتانیہ میں جمعیۃ المستقبل للدعوة والثقافة والتعليم کے زیرِ اہتمام منعقدہ تیسرے علمی اجلاس میں اپنی علمی مداخلت کے دوران کی۔

محترم شیخ قرہ داغی نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی بینکاری کی اولین مرجع اسلامی معیشت ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سودی بینک دراصل سرمایہ دارانہ نظام کے اُن اصولوں پر قائم ہوتے ہیں جو کریڈٹ، قرض اور شخصی مالی حیثیت (سالوینسی) پر مبنی ہیں، جبکہ اسلامی معیشت حقیقی اثاثوں، ٹھوس حقائق اور واقعی منافع پر استوار ہوتی ہے، جو عدل کو یقینی بناتی اور ظلم کا سدِّباب کرتی ہے۔

اسلامی معیشت بمقابلہ وضعی (سیکولر) معاشی ماڈل

قرہ داغی نے وضعی معیشت کے تصور پر تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے کہا کہ اس نے سماجی پہلوؤں کو نظر انداز کیا اور فرد کی دولت مندی اور ریاستی غلبے کو بنیاد بنایا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سودی منافع، جس نے سرمایہ داروں کی بالادستی کو مضبوط کیا، آج بھی اپنی منفی سماجی و معاشی اثرات کے باوجود غالب ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی بینکاری کا فقہ تب تک مطلوبہ کردار ادا نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی اصیل مرجعیت—یعنی اسلامی معیشت کے جامع ڈھانچے—سے نہ جُڑا ہو، جس میں اسلامی اقتصادیات، معاشی نظام، اقتصادی پالیسیاں، معاشی تجزیہ، پروگرامز و منصوبے اور فقہِ معاملات شامل ہیں۔

ایک ہی مرجعیت… اور حاکم اصول

محترم شیخ قرہ داغی نے توجہ دلائی کہ مغربی اقتصادی علم پانچ بنیادی اصولوں—پیداوار، کھپت، تبادلہ، تقسیم اور از سرِ نو تقسیم—پر قائم ہے، جبکہ اسلامی معیشت کی بنیاد حقِ ملکیت پر رکھی جاتی ہے اور باقی عناصر اسی کے تابع ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکاری کو درپیش مسائل کی جڑ اسی مرجعیت سے دوری ہے، اور یہ کہ سودی فوائد مہنگائی کا حل نہیں اور نہ ہی معاشی عدل قائم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسلامی معیشت کے حاکم اصول ظلم، غرر اور جہالت کی نفی، منافع کی منصفانہ شراکت، اور حقیقی ملکیت کی شرط پر قائم ہیں، جس سے فرد اور معاشرے کے درمیان توازن پیدا ہوتا ہے۔

محترم شیخ قرہ داغی نے اسلامی بینکاری کی ترقی کے لیے شرعی عقود کے فعال نفاذ، ترقیاتی صکوک، زکوٰۃ کے کردار کے فروغ اور ڈیجیٹل مواقع سے استفادے کی دعوت دی، اور کہا کہ تکنیکی ترقی نے “جیب میں اسلامی بینک” کے قیام کو بھی ممکن بنا دیا ہے۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے اس امر کی تاکید کی کہ اسلامی معیشت ایک مکمل اور قابلِ ارتقا نظام ہے، جس کی بنیادیں قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ میں مضبوطی سے پیوست ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قرآنِ کریم میں تقریباً 360 معاشی اصطلاحات موجود ہیں، نیز اس میں اقتصادی و مالی پالیسیاں اور قانونِ طلب و رسد بھی بیان ہوا ہے، جسے بعد میں سرمایہ دارانہ نظام نے اپنایا۔

اسی تناظر میں جمعیۃ المستقبل کے صدر، علامہ محمد الحسن ولد الددو نے کہا کہ یہ جمعیت مختلف فکری رجحانات رکھنے والے اہلِ دعوت کی کوششوں کو یکجا کرنے اور دعوتِ الی اللہ، سماجی تعلیم و تربیت کے مشن کو کامیاب بنانے کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جمعیت کے کام کی بنیاد معاشرے کے عقیدے کے تحفظ اور اس کی ثقافت کی پاسبانی پر ہے، خصوصاً عالمگیریت کی تیز رو لہر کے مقابلے میں جو نوجوانوں کو ان کی شناخت سے جدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے تعلیم کو اقوام کی ترقی کا حقیقی دروازہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر تعلیم یافتہ فرد امت کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔

علمی اجلاس کے دوران حاضرین کی جانب سے علمی تعقیبات اور مداخلتیں ہوئیں، نیز اسلامی بینکاری کے فقہ اور اس کے نفاذ کو درپیش چیلنجز سے متعلق تخصصی سوالات بھی کیے گئے، جن کے جوابات ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی نے اجلاس کے اختتام پر دیے۔

(ماخذ: الاتحاد + موقع الأخبار)

 

ـــــــــــــــــــــــــــ

* للاطلاع على الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).




منسلکات

التالي
ڈاکٹر محمد منظور عالم… سماجی انصاف کا داعی اور محروموں کی آواز
السابق
ایک علمی و فکری نشست میں ڈاکٹر محمد طاہر البرزنجي کی علمی و فکری خدمات پر روشنی ڈالی گئی۔

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں