ڈاکٹر محمد منظور عالم… سماجی انصاف کا داعی اور
محروموں کی آواز
مشہور قومی وملی راہنما ڈاکٹر محمد منظور عالم کا انتقال منگل کی
صبح 13 جنوری 2026 کو نئی دہلی میں اسّی برس کی عمر میں ہوا۔ وہ ایک درخشاں علمی و
فکری زندگی کے بعد ہم سے رخصت ہوئے، جس نے انہیں بھارت اور عالمِ اسلام میں سماجی
انصاف کی تحقیق اور اس کی دعوت دینے والی نمایاں شخصیات میں شامل کر دیا۔ آپ 1945
میں ریاست بہار کے ضلع مدھوبنی کے قصبہ رانی پور میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
سے تعلیم حاصل کی اور معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد اسلامی معاشیات
اور سماجی علوم کے میدان میں ایسی راہ ہموار کی جس میں علمی گہرائی کے ساتھ انسان
اور سماج کے مسائل سے اخلاقی وابستگی نمایاں تھی۔
آپ کی خدمات کا دائرہ بین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا تھا۔
مملکتِ سعودی عرب اور ملائشیا میں اعلیٰ علمی اور مشاورتی مناصب پر فائز رہے۔
مجمعِ شاہ فہد برائے طباعة المصحف الشریف میں ترجمۂ قرآن کے مرکزی نگران رہے، نیز
اسلامی ترقیاتی بینک اور اسلامی جامعات کی عالمی کمیٹیوں اور مجالس کے رکن رہے۔ نئی
دہلی میں معہد الدراسات الموضوعیة (Institute of Objective Studies) کی بنیاد رکھی اور اسے ایک ممتاز فکری مینار میں بدل دیا، جہاں سینکڑوں
مطالعاتی اور تحقیقی منصوبے انجام پائے، بین المذاہب مکالمہ فروغ پایا، پالیسیوں
کا تجزیہ ہوا اور اقلیتوں و محروم طبقات کے حقوق کا دفاع کیا گیا۔
ڈاکٹر منظور عالم اپنی انکساری، علمی دیانت اور فکر و عمل کے حسین
امتزاج کے لیے معروف تھے۔ وہ اسلامی اساس اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کو یکجا کرنے کی
غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔ اسماعیل راجی الفاروقی اور عبدالحمید ابو سلیمان جیسے
عالمی مفکرین کے ساتھ مل کر “اسلامائزیشن آف نالج” اور اسلامی معاشیات جیسے بڑے
منصوبوں میں حصہ لیا۔ ان کی کتابوں اور مقالات، خصوصاً “الانذار الاخیر” میں آزادیٔ
صحافت، تعلیم اور سماجی اصلاح جیسے موضوعات پر سنجیدہ بحث ملتی ہے، جس نے محققین،
داعیوں اور سماجی کارکنوں کی نسلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ یوں ان کا ورثہ ان کے قائم
کردہ اداروں، روشن کیے گئے اذہان اور ہر اس مخلص کوشش میں زندہ ہے جو عدل، علم اور
انسانی تمکین کی طرف بڑھتی ہے۔
ایسے دور میں جب شور و غوغا وقار و سکون پر غالب آ جائے اور شخصیّت
پسندی ادارہ جاتی فکر کو پسِ پشت ڈال دے، حقیقی مردانِ کار کی رحلت ہمیں یاد دلاتی
ہے کہ خاموش تعمیری کام عارضی شور سے کہیں زیادہ دیرپا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر محمد منظور
عالم کا فقدان محض ایک فرد کا بچھڑنا نہیں، بلکہ بھارت میں معروضی فکر اور مضبوط
ادارہ جاتی عمل کے ایک روشن چراغ کا بجھ جانا ہے۔
ڈاکٹر منظور عالم ایک سادہ دیہی ماحول میں پروان چڑھے، جہاں تعلیمی
مواقع نہایت محدود اور سماجی شعور کم تھا۔ وہ اپنے گاؤں کے پہلے فرد تھے جنہوں نے
ہائر سیکنڈری کا امتحان پاس کیا۔ ابتدا آسان نہ تھی؛ ریاضی سے شغف ایک قابل استاد
کی عدم موجودگی سے ٹکرا گیا، تو وہ سماجی علوم کی طرف متوجہ ہوئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
نے ان کی صلاحیتوں کو جِلا بخشی اور وہیں معاشیات میں ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ یوں ایک
منفرد سفر کا آغاز ہوا جس میں اسلامی ایمان کی گہرائی اور جدید علمی تحقیق کی منہجیت
جمع ہو گئی۔ وہ اس یقین کے حامل تھے کہ علم اشرافیہ کی جاگیر نہیں، بلکہ محروموں کی
تمکین اور مظلوموں کے لیے انصاف کا ذریعہ ہے۔
ڈاکٹر منظور عالم محض علمی القابات تک محدود نہ رہے، بلکہ “جہد
مسلسل ” کا عملی نمونہ بنے۔ سعودی وزارتِ خزانہ میں اقتصادی مشیر جیسے اعلیٰ منصب
پر فائز رہتے ہوئے اعتماد اور احترام حاصل کیا، مگر پیشہ ورانہ کامیابی کے عروج پر
اس زندگی کو چھوڑ کر وطنِ عزیز بھارت واپس آ گئے۔ 1986 میں نئی دہلی میں Institute
of Objective Studies قائم کیا اور مسلمانوں کے سماجی و تعلیمی
مسائل کو جذباتی نعروں سے نکال کر میدانی تحقیق اور سائنسی تجزیے کا موضوع بنایا۔ یہ
ادارہ ان کے خواب کی تعبیر تھا: ایک سنجیدہ، غیر جانب دار تحقیقی مرکز جو سماج کی
خدمت کرے اور معروضی علم کو عدل و ترقی کا ہتھیار بنائے۔
ان کا روشن خیال فکر انزوا اور تنگ نظری سے پاک تھا۔ وہ بھارت
اور عالمِ اسلام کے درمیان ایک زندہ پل تھے۔ ڈاکٹر انور ابراہیم جیسی ممتاز شخصیات
سے قریبی فکری روابط نے انہیں بین الاقوامی اسلامی مکالموں میں فعال کردار عطا کیا۔
وہ سمجھتے تھے کہ حقیقی مفکر کا کام بلند اقدار کو عملی زندگی میں زندہ کرنا ہے،
نہ کہ عاج دانوں میں بیٹھ جانا۔ صحت کے شدید مسائل اور ہفتے میں دو بار ڈائلیسس کے
باوجود، زندگی کے آخری برسوں تک ان کی سرگرمی کم نہ ہوئی؛ اگلے ہی دن کام پر لوٹ
آتے، اس یقین کے ساتھ کہ عمر کی ایک ذمہ داری ہے جسے پورا کرنا لازم ہے۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم کی غیر معمولی صلاحیت اس میں ظاہر ہوئی
کہ انہوں نے اعلیٰ مناصب اور تخصصی علمی اہلیت کو سماج کی عملی خدمت اور محروموں کی
کو انصاف دلانے میں صرف کیا.
مجمع الفقہ الاسلامی انڈیا کی رکنیت ہو یا کویت کی الہیئة
الخيرية الإسلامية العالمية کی بانی رکنیت—یہ محض اعزازی عناوین نہ تھے، بلکہ ایسے
منابر تھے جن کے ذریعے انہوں نے بھارت کے مسلمانوں کی مشکلات کو عالمی اسلامی
مکالموں تک پہنچایا اور ترقیاتی ضروریات کے لیے عملی تعاون کی راہیں ہموار کیں۔ اسی
طرح ملائشیا کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے بھارت میں نمائندۂ اعلیٰ کے طور
پر ان کا کردار ایک زندہ پل ثابت ہوا، جس نے جنوبی ایشیا کے تعلیمی نظام کو جدید
اسلامی تعلیم کے عالمی مراکز سے جوڑا اور نصاب و تعلیمی وژن کی تجدید کی کوششیں کیں۔
ان کی ادارہ جاتی بصیرت کی نمایاں خصوصیت مقامی جڑوں اور عالمی
اثر کے درمیان نازک توازن تھی۔ ایک طرف وہ آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکریٹری کے
طور پر داخلی امور اور مسلم اقلیت کے حقوق کے لیے سرگرم رہے، تو دوسری طرف المعہد
العالمي للفكر الإسلامي کے بانی رکن کے طور پر امت کے بڑے فکری مباحث میں شریک
رہے۔ اسی امتزاج نے Institute of Objective Studies کو ایسی منفرد ساکھ دی کہ وہ بھارت میں تعلیم، غربت اور امتیاز جیسے
مسائل کو جذباتی بیانئے سے نکال کر ٹھوس تحقیقی منصوبوں میں ڈھال سکا—ایسے عملی حل
پیش کیے جو قابلِ نفاذ اور قابلِ پیمائش ہوں—اور یہ سب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے
حاصل کردہ مطالعاتِ مستقبل، اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور اسلامی معاشیات کی مہارت کے
سہارے ممکن ہوا۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم جسمانی طور پر رخصت ہو گئے، مگر ایک ایسا
ورثہ چھوڑ گئے جو کبھی مٹنے والا نہیں: تحقیق کا مضبوط طریقِ کار، فکر کی وہ منہجیت
جو اصالت اور معروضیت کو یکجا کرتی ہے، اور انکساری و اخلاص کا انسانی نمونہ۔
انہوں نے ہمیں سکھایا کہ عالم کی حقیقی قدر علم کی کثرت میں نہیں، بلکہ اس میں ہے
کہ وہ اپنے علم کو خیر کا ذریعہ اور انسان کی تمکین کا راستہ کیسے بناتا ہے۔ اللہ
تعالیٰ ان پر اپنی بے پایاں رحمت نازل فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ
مقام عطا فرمائے:
یَموتُ المَرءُ والآثارُ تحيَا
*** ويَبقَىٰ ذِكرهُ طولَ الزمانِ