عیسائیت سے اسلام تک کا سفر — عائشہ بریجٹ ہنی
(سوال و جواب)
سوال: آپ نے کب اور کس عمر میں اسلام قبول کیا؟
جواب: میں نے تقریباً ساڑھے تین سال پہلے، 21 سال کی عمر میں
اسلام قبول کیا۔ یہ میرے لیے اللہ کی طرف سے ہدایت تھی۔
سوال: آپ نے اسلام کیسے قبول کیا؟
جواب: میں ایک عام برطانوی گھرانے میں پلی بڑھی۔ چرچ اسکول میں
پڑھنے کے باوجود عیسائیت کے عقائد، خاص طور پر تثلیث اور کفارہ، مجھے مطمئن نہ کر
سکے۔ سچ کی تلاش میں میں نے تاؤ مت، بدھ مت اور ہندو مت کا مطالعہ کیا مگر دل کو
سکون نہ ملا۔ یونیورسٹی میں مسلمانوں سے ملاقات ہوئی، انہوں نے اسلام سمجھایا اور
قرآن کا ترجمہ دیا۔ قرآن پڑھ کر میں بہت متاثر ہوئی اور سورۂ آلِ عمران پڑھتے ہوئے
پہلی بار سجدہ کیا۔ تین ماہ کے اندر میں نے اسلام قبول کر لیا۔
سوال: آپ کے قبولِ اسلام پر خاندان اور دوستوں کا کیا ردِعمل
تھا؟
جواب: ابتدا میں والدین نے اسے عارضی شوق سمجھا، لیکن جب میری
زندگی بدلنے لگی—جیسے شراب اور خنزیر سے انکار اور اسکارف پہننا—تو وہ پریشان
ہوئے۔ میری سہیلیوں نے بحث کے بعد اسلام کے اصولوں کو معقول تسلیم کیا۔
سوال: اسلام قبول کرنے کے بعد کیا مشکلات پیش آئیں؟
جواب: بعض لوگ اسلام کا مذاق اڑاتے تھے، مگر یونیورسٹی کا ماحول
سمجھدار تھا، اس لیے بڑی مشکلات پیش نہ آئیں۔
سوال: اسلام قبول کرنے کے بعد آپ نے کس حد تک علم حاصل کیا؟
جواب: میں نے اسلامی کتابیں پڑھیں، علماء سے سوال کیے اور مختلف
مسلمانوں سے گفتگو کی۔ قرآن کے تراجم اور تفاسیر کا مطالعہ بھی کیا تاکہ دین کو
بہتر سمجھ سکوں۔
سوال: کیا اسلام جدید تہذیب کو متاثر کر سکتا ہے؟
جواب: جی ہاں، مغربی دنیا روحانی بے چینی کا شکار ہے۔ اسلام جسم
اور روح کے درمیان توازن پیدا کرتا ہے اور انسان کو کامیابی اور مقصدِ زندگی
دکھاتا ہے۔
سوال: اسلام کی اشاعت کیسے ہو سکتی ہے؟
جواب: سب سے مؤثر تبلیغ اچھا کردار اور مثالی زندگی ہے۔ مسلمان
اگر اپنے عمل سے اسلام دکھائیں تو لوگ خود متاثر ہوں گے۔
سوال: برطانوی مسلمانوں کی خاص مشکلات کیا ہیں؟
جواب: جو لوگ اکیلے اسلام قبول کرتے ہیں انہیں غیر اسلامی
معاشرے میں نماز، روزہ اور اسلامی طرزِ زندگی اپنانے میں دشواری ہوتی ہے۔ انہیں
رہنمائی اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہم سے بات کرنے کے لیے شکریہ ۔
عائشہ بریجٹ ہنی کی زندگی کا یہ سفر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سچ
کی تلاش کرنے والا انسان بالآخر ہدایت کا راستہ پا لیتا ہے۔ اسلام نے نہ صرف ان کی
سوچ کو بدلا بلکہ ان کی پوری زندگی کو ایک واضح مقصد دے دیا۔ ان کی کہانی اس بات کی
یاد دہانی ہے کہ اچھا اخلاق، علم کی جستجو اور مضبوط ایمان ہی دین کی اصل خوبصورتی
کو ظاہر کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حق کو پہچاننے، اس پر قائم رہنے اور اپنی
زندگی کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(بشکریہ یواین اےنیوز)