بحث وتحقیق

تفصیلات

اتحاد عالمی کی کردستان شاخ کا سلیمانیہ میں پہلا اجلاس: علما کی وحدت اور خدمتِ امت کے لیے پیش رفت

اتحاد عالمی کی کردستان شاخ  کا سلیمانیہ میں پہلا اجلاس: علما کی وحدت اور خدمتِ امت کے لیے پیش رفت

 

عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کی کردستان شاخ نے پیر، 11 اگست 2025ء کو عراق کے کردستان ریجن میں ضلع سلیمانیہ کے لیے اپنا پہلا باقاعدہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کا عنوان تھا: "عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز – اہداف اور ذمہ داریاں"۔

اس میں خطہ کے ارکانِ اتحاد نے شرکت کی۔

اجلاس کی ابتدا قرآن کریم کی خوش الحان تلاوت سے ہوئی۔ بعد ازاں ڈاکٹر محمد نصر اللہ حبیب (رکنِ اتحاد اور سربراہ ضلع سلیمانیہ) نے استقبالیہ کلمات ادا کیے اور علما کے کردار کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس امت کی خدمت میں علما کے کردار کو تقویت دینے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

عالمِ ربانی اور عقیدے کے محافظ

ڈاکٹر احمد وھاب مجید البینجوینی (سربراہ شاخ کردستان) نے "العالم الرباني" کے موضوع پر پرمغز خطاب کیا۔ انہوں نے علماے ربانیین کی عظمت، ان کے منصب، اور ان کے کردار کو "عقیدے کے محافظ اور انبیا کے وارث" کے طور پر بیان کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ان کی ذمہ داریوں کو اجاگر کیا:

حق کو بیان کرنا

شبہات کا ازالہ کرنا

امت کو انحراف سے بچانا

انہوں نے اس کے برعکس "علماءِ سلطان" کے خطرے کی طرف متوجہ کیا جو دین کو حکمران کی خدمت میں سیاسی رنگ دے کر ظلم کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے نصوص کے تحریف شدہ استعمال کے خطرات پر بھی روشنی ڈالی اور مثال کے طور پر قرآن میں مذکور کرداروں کا ذکر کیا:

بلعم بن باعوراء

یہودی احبار

قارون

اتحاد کے قومی و انسانی اہداف

ڈاکٹر عمر عبدالعزیز (شاخ کے بانی رکن) نے "عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز – اہداف اور ذمہ داریاں" کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اتحاد ایک آزاد علمی و فکری ادارہ ہے جو دنیا بھر کے علما اور مفکرین کو یکجا کرتا ہے، اور امت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اعتدال پسند اور جامع راستہ اپناتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اتحاد کا قیام اس مقصد کے لیے ہوا کہ:

علما کی صفوں میں اتحاد پیدا ہو

فہمِ وسطی کو عام کیا جائے

امت کے مسائل میں نصرت فراہم کی جائے

فلسطین اور مسجد اقصیٰ جیسے بڑے مسائل میں عوام کی حمایت کی جائے

تعلیم و میڈیا کے ذریعے دینی اور تہذیبی شعور کو فروغ دیا جائے

مزید برآں، انہوں نے اتحاد کے قیام کی تاریخ اور اس کے مہاجرین میں وجود پانے کے حالات کا ذکر کیا۔ یہ بھی بتایا کہ اتحاد کے میثاق کو کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے، جن میں کردی زبان بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس کے اسٹریٹجک اہداف کو بھی اجاگر کیا جیسے:

علما کی توانائیوں کو یکجا کرنا

نظریات میں تقارب لانا اور اختلافات کو کم کرنا

دشمنانہ سازشوں کا مقابلہ کرنا

حکمرانوں پر حجت تمام کرنا

آخر میں ڈاکٹر عمر نے علما کی بنیادی ذمہ داریوں پر زور دیا، جیسے: مسلسل علمی و فکری تربیت اتحاد کی خصوصیات (وسطیت اور توازن) کو اپنانا گہری فقہی بصیرت حاصل کرنا علما کی مختلف جماعتوں کو اتحاد کے پیغام کی اشاعت کے لیے سرگرم کرنا وسعتِ نظری اور التزام کے درمیان توازن قائم رکھنا انفرادی طور پر ذمہ داری کا احساس رکھنا

(ماخذ: الاتحاد)

 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* للاطلاع على الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).




منسلکات

التالي
القرہ داغی: "غزہ نسل کُشی کی جنگ اور محاصرہ کا شکار ہے. مصائب شدید ہوچکے ہیں اور امتِ مسلمہ کی غفلت کو بے نقاب ہوچکی ہے"
السابق
صدر عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کے زیرِ نگرانی فقہ و فکر میں "تجدیدِ منضبط"کے موضوع پر اعلیٰ علمی کورس

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں