القرہ داغی: "غزہ
نسل کُشی کی جنگ اور محاصرہ کا شکار ہے. مصائب شدید ہوچکے ہیں اور امتِ مسلمہ کی غفلت
کو بے نقاب ہوچکی ہے"
ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور
میں درجنوں اداروں کی جانب سے منعقدہ عظیم الشان مظاہرے "ملیشیا فلسطین کے لیے
اٹھ کھڑا ہوا" کے عنوان کے تحت، محترم شیخ ڈاکٹر علی محی الدین القره داغی (صدر
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز) کا ویڈیو پیغام پیش کیا گیا، جس میں انہوں نے غزہ
کی موجودہ تباہ کن صورتحال پر روشنی ڈالی جو صہیونی قبضے کے ظلم و ستم کے نتیجے میں
جاری ہے۔
نسل کُشی اور مہلک محاصرہ
اپنے پیغام میں القره داغی نے کہا
کہ غزہ مکمل نسل کُشی کی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ ظالمانہ محاصرہ خوراک، دوا اور پانی
کی ترسیل روکے ہوئے ہے، جس سے بچوں، خواتین اور بزرگوں کی اذیت مزید بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا: "وہ بھوک، پیاس
اور دوا کی کمی سے مر رہے ہیں، جبکہ صہیونی قبضہ مسلسل اور منظم انداز میں قتل و تباہی
جاری رکھے ہوئے ہے۔ امن کی کوئی جھلک بھی نظر نہیں آتی۔"
غزہ کا صبر واستقامت
اور امت کی کوتاہی
انہوں نے مزید کہا کہ اہلِ غزہ اور
بیت المقدس کا صبر واستقامت، اور بہادر مزاحمت خصوصاً مبارک آپریشن "طوفان الاقصیٰ"
نے صہیونی منصوبے کو ناکام بنا دیا، جو مسجد اقصیٰ کو گرانے اور نام نہاد ہیکل بنانے
کے لیے بنایا گیا تھا۔
القرہ داغی نے واضح کیا کہ یہ سانحہ
امت مسلمہ کی کوتاہی کو ظاہر کرتا ہے، بالخصوص مصر اور اردن جیسے ممالک کی، جو محاصرے
میں گھرے عوام کی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد اللہ کے
سامنے جواب دہ ہے، ہر اس جان کے بارے میں جو بھوک، پیاس یا بے وفائی کی وجہ سے ضائع
ہوئی۔
عالمی یکجہتی اور ظلم
کے خاتمے کا مطالبہ
انہوں نے آزاد اقوام بالخصوص ملائیشیائی
عوام کے موقف کو سراہا، جنہوں نے فلسطین اور غزہ کے ساتھ اپنی حمایت اور یکجہتی کا
تسلسل قائم رکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کم از کم فرض ہے جو غزہ اور فلسطین کے لیے ادا
کیا جانا چاہیے۔
مظاہرے میں القره داغی کے پیغام کے
ساتھ مطالبات بھی پیش کیے گئے :
محاصرہ فوری طور پر ختم کیا جائے
نسل کُشی کے حوالے سے عالمی فوجداری
عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے
صہیونی قبضے کے ساتھ تعاون کرنے والی
کمپنیوں کا بائیکاٹ کیا جائے
امریکہ کو اس جاری جارحیت کا ذمہ دار
ٹھہرایا جائے
7 اکتوبر 2023 سے صہیونی قبضہ وحشیانہ نسل کُشی
جاری رکھے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں: 61,776 فلسطینی شہید 154,906 زخمی (اکثر بچے اور
خواتین) 9,000 سے زائد لاپتہ لاکھوں بے گھر اور ہولناک قحط نے 239 افراد (جن میں
106 بچے شامل ہیں) کی جان لے لی یہ سب تاریخِ جدید کے بدترین اور شرمناک ابواب میں
شمار ہوتا ہے۔
(ماخذ: الاتحاد + سوشل میڈیا)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).