بحث وتحقیق

تفصیلات

اتحاد کا انتباہ: "اسرائیلِ کبریٰ"(گریٹر اسرائیل) کا منصوبہ انتہائی خطرناک ہے۔ غزہ کا سقوط امت کے لیے فوری خطرہ ہے، اور امت کی وحدت ہی اصل تحفظ کا راستہ ہے (بیان)

عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کا انتباہ: "اسرائیلِ کبریٰ"(گریٹر اسرائیل) کا منصوبہ انتہائی خطرناک ہے۔ غزہ کا سقوط امت کے لیے فوری خطرہ ہے، اور امت کی وحدت ہی اصل تحفظ کا راستہ ہے (بیان)

 

عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز سخت ترین الفاظ میں اس نام نہاد منصوبے "اسرائیلِ کبریٰ" کی مذمت کرتا ہے، جس میں پورا فلسطین، نیز اردن اور مصر کے کچھ حصے اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ یہ ایک کھلا اور غیر قانونی قبضے کا منصوبہ ہے، جو اخلاقیات سے عاری ہے اور تمام عالمی قوانین و معاہدوں کے سراسر منافی ہے۔

یہ منصوبہ صہیونی قبضے کی غطرس اور فلسطینی سرزمین و مقدسات کی بے حرمتی، بستیوں کے پھیلاؤ، القدس کے یہودیکرن، اور فلسطینی عوام کی جلاوطنی کی پالیسی کو مزید واضح کرتا ہے، جو قتل، قحط اور نسل کشی کے منظم منصوبے کا حصہ ہے۔

اتحاد کی اپیل:

اوّل: نیتن یاہو کے بیانات اس بات کا کھلا اعلان ہیں کہ "اسرائیلِ کبریٰ" ایک خطرناک استعماری منصوبہ ہے جو پوری امت اسلامیہ کو نشانہ بناتا ہے۔ آج غزہ امت کا ڈھال بن کر کھڑا ہے، پوری امت کی طرف سے لڑ رہا ہے اور بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔

دوّم: عرب و اسلامی دنیا کی بار بار کی خاموشی بلکہ بعض کی سازباز نے صہیونی قبضے کو مزید گستاخ بنایا اور فلسطینی عوام کو تنہا قتل و تباہی کی مشین کے سامنے چھوڑ دیا۔

سوّم: اتحاد عالمی، قائدینِ امت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر حقیقی وحدت اختیار کریں۔ علماء و مفکرین سے کہ وہ سچی بات اور جری موقف کے ذریعے امت کے حوصلے بیدار کریں۔ اور اسلامی عوام سے کہ وہ اپنے مادی و معنوی تعاون کے فرض کو ادا کریں۔ ساتھ ہی بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ فوری اقدام کرے، اس سے پہلے کہ تاریخ اسے اس جرمِ عصر پر خاموشی کی تائید کرنے والا قرار دے۔

چہارم: اتحاد ہر قسم کے تطبیع (قبضہ تسلیم کرنے) کو مسترد کرتا ہے اور اسے صہیونی جارحانہ منصوبوں کی براہ راست مدد قرار دیتا ہے۔ حل صرف امت کی وحدت اور فلسطینی مزاحمت کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہے۔ اس کے لیے ہر جائز ذریعہ اختیار کیا جائے اور صہیونی قبضے سے ہر قسم کے تعلقات ختم کیے جائیں۔

پنجم: اتحاد عالمی امت سے اپیل کرتا ہے کہ وہ کسی بھی توسیعی منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری تیاری کرے۔ امت کی وحدت اور مشترکہ عمل ہی غاصب ریاست کو روکنے، فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی بازیابی، اور القدس و مقدسات کو یہودیکرن و حملوں سے بچانے کا واحد ذریعہ ہے۔

قرآنی ہدایت

آخر میں اتحاد عالمی امت کو یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نجات کا راستہ واضح کیا ہے۔ وہ ہے جائز اور شرعی مزاحمت: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ۝ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ۝ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۝ وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا ۖ نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الصف: 10 – 13]

اور فرمایا: ﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ﴾ [النساء: 75]

لہٰذا اتحاد امت سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے فلسطین کی نصرت کرے، مجاہدین صابرین کے لیے دعا کرے، اور حق کے راستے پر ثابت قدم رہے، یہاں تک کہ قبضہ ختم ہو اور باطل مٹ جائے: ﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ﴾

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾ [آل عمران: 103]۔

لہٰذا وحدت آج کوئی اختیار اور چوائس نہیں بلکہ سچائی یہ ہے کہ امت کی بقا اور تحفظ اسی پر منحصر ہے۔ اور اللہ اپنے امر پر غالب ہے۔

 

الدوحہ: 22 صفر 1447ھ

بمطابق: 16 اگست 2025ء

 

ڈاکٹر علی محمد الصلابی                                        پروفیسر ڈاکٹر علی محی الدین القره داغی

       (سیکرٹری جنرل)                                                                      صدر

 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* للاطلاع على الترجمة الكاملة للبيان باللغة العربية، اضغط (هنا).




منسلکات

السابق
القرہ داغی: "غزہ نسل کُشی کی جنگ اور محاصرہ کا شکار ہے. مصائب شدید ہوچکے ہیں اور امتِ مسلمہ کی غفلت کو بے نقاب ہوچکی ہے"

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں