دہلی
کے جنتر منتر پر فلسطین کے لیے احتجاجی مظاہرہ!
تحریر:
أبو الأعلی سید سبحانی
یہ مظاہرہ ملت اسلامیہ
ہند کا مشترکہ مظاہرہ تھا!
تمام مکاتب فکر اور
بڑی جماعتیں اس میں شریک رہیں!
دیوبندی بھی،
بریلوی بھی،
شیعہ بھی،
جماعت اسلامی بھی،
جمعیۃ العلماء بھی،
جمعیۃ اہل حدیث بھی،
نوجوان بھی تھے، اور
خواتین بھی!
بچے بھی تھے اور بزرگ
بھی!
ملی قائدین نے بھی اس
میں خطاب فرمایا،
اور سول سوسائٹی کے
بہت سے نمایاں چہروں نے بھی اپنی بات رکھی،
شہر عزیمت کے حق میں
سب کے یکساں جذبات تھے،
نعروں کی گونج میں ہر
کوئی شریک تھا،
ہر طرف سرزمین عزیمت
کے جھنڈے، کوفیے اور بینر نظر آرہے تھے!
اللہ رب العزت شہر عزیمت
کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز کو قبول فرمائے!
اللہ رب العزت شہر عزیمت
کے لیے کام کرنے والے ایک ایک فرد کی خدمات قبول فرمائے!
اللہ رب العزت شہر عزیمت
کے لیے آسانیاں فرمائے اور ان سے آزمائشوں کو دور فرمائے!
آمین یا رب العالمین.