"غزہ
ایک اسلامی و انسانی ذمہ داری" کے زیر عنوان منعقد ہونے والے استنبول میں
عالمی علما کانفرنس کے حوالے سے پریس کانفرنس
عالمی
اتحاد برائے مسلم اسکالرز کے زیرِ اہتمام، اور اس کے صدر محترم پروفیسر ڈاکٹر علی
محی الدین قرہ داغی کی قیادت میں، استنبول میں ایک پریس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں
اعلان کیا گیا کہ عالمی علما کانفرنس بعنوان "غزہ: ایک اسلامی و انسانی ذمہ
داری" بروز جمعہ 22 اگست 2025 کو ترکی اور عالمِ اسلام کے ممتاز علما کی شرکت
سے منعقد ہوگی۔
یہ اعلان
اس وقت کیا گیا ہے جب غزہ پر جارحیت مسلسل جاری ہے اور انسانی المیہ شدید تر ہوتا
جارہا ہے۔ کانفرنس کا مقصد اسلامی اور انسانی سطح پر موقف اور کوششوں کو یکجا کرنا
اور فلسطینی عوام کی نصرت کرنا ہے۔
پریس ریلیز کا متن
محترم
علما کرام، اسلامی امت اور تمام انسانیت کے آزادی پسند افراد!
شرعی اور
انسانی ذمہ داری کے گہرے احساس کے تحت، عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز نے، ترکی میں
"وقف علمائے اسلام" کے تعاون سے یہ بابرکت کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ
کیا ہے۔ اس یقین کے ساتھ کہ علما اور پوری امت پر واجب ہے کہ وہ غزہ اور فلسطین کے
ساتھ کھڑے ہوں، ان کے عادلانہ مقدمے کا دفاع کریں اور اپنے تمام تر وسائل و قوت کے
ساتھ ان کے مظلوم عوام کی مدد کریں۔
آج ہم
تاریخ کی سب سے خطرناک تباہی کے سامنے کھڑے ہیں—بلکہ یہ پوری انسانیت کی تاریخ کی
سب سے بڑی تباہی ہے—ایسی اجتماعی نسل کشی جس کا نشانہ ہمارے ڈھائی ملین سے زیادہ
اہلِ غزہ ہیں۔ انہیں مہلک ہتھیاروں سے قتل کیا جارہا ہے، بھوک و پیاس سے گھیر کر
رکھا گیا ہے، بیماری اور محرومی کا شکار بنایا گیا ہے۔ یہ سب مسلسل بائیس ماہ سے
جاری ہے!
پہلی بار
تاریخ میں، اور پوری دنیا کے سامنے، ایک صہیونی دہشت گرد حکومت کھلے عام ایک پوری
قوم کے خاتمے کا اعلان کر کے اس پر عمل کر رہی ہے۔ نہ مسجدوں کو چھوڑا، نہ کلیساوں
کو، نہ اسپتال باقی رہے نہ اسکول، نہ گھروں کو بخشا نہ کیمپوں کو—زندگی کے تمام
اسباب کو تباہ کردیا گیا اور غزہ کو زندگی کی نہیں بلکہ موت کی سرزمین بنا دیا گیا۔
ان جرائم
کی حد صرف غزہ تک نہیں، بلکہ وہ اعلانیہ طور پر مزید عرب و مسلم زمینیں ہڑپ کرنے
کے منصوبے پر ہیں، اردن و مصر کو بھی دھمکیاں دے رہے ہیں، اور اپنے باطل خواب
"اسرائیلِ کبریٰ" کو پورا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اس دوران مسجد اقصیٰ—ہمارے
نبی کریم ﷺ کا قبلہ اول اور امت کا مرکز—مسلسل حملوں اور بے حرمتی کا شکار ہے۔
یہ نسل
کشی ہے جو قبضے اور استعماری توسیع کے جرم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی قوانین
تماشا بن چکے ہیں، انسانیت اپنی قدریں کھو بیٹھی ہے، اقوامِ متحدہ کے فیصلے خاک میں
مل گئے ہیں، "اونروا" کو مفلوج کردیا گیا ہے۔ نہ کوئی قانون بچاتا ہے،
نہ عدل ملتا ہے، نہ انسانی وقار باقی رہا ہے۔ اس سب سے بڑھ کر یہ کہ ان جرائم کو
بعض بڑی طاقتوں، بالخصوص امریکہ کی حمایت حاصل ہے جو اسرائیل کو مہلک ہتھیار دیتا
ہے اور اسے سیاسی و سفارتی طور پر ڈھالتا ہے۔
مگر اس
کے برعکس دنیا کی آزاد اقوام اٹھ کھڑی ہوئی ہیں، مظاہرے کر رہی ہیں، آواز بلند کر
رہی ہیں۔ البتہ ہماری اسلامی و عرب دنیا بے بسی، غفلت اور بعض حکومتوں کی کھلی
سازش میں مبتلا ہے۔
محترم
حاضرین!
اس بے
مثال المیے کے پیشِ نظر، عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز نے، وقف علمائے اسلام اور
ایک مخلص و غیرتمند گروہ کے ساتھ مل کر یہ کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس
کا عنوان ہے: "غزہ ایک اسلامی و انسانی ذمہ داری"۔ اس میں امت کے سو سے
زائد بڑے علما شریک ہوں گے تاکہ حق بات کو بلند کریں، اپنا شرعی و تاریخی فریضہ
ادا کریں، اور واضح کریں کہ غزہ صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امت اور
پوری انسانیت کا مشترکہ مقدمہ ہے۔
کانفرنس کے مقاصد
1.
امتِ مسلمہ اور انسانیت کو
متحرک کرنا تاکہ جارحیت رک سکے، راستے کھل سکیں، اور اہلِ غزہ کی ضروریات پوری کی
جاسکیں۔
2. اسلامی اتحاد کو یقینی بنانا تاکہ نسل کشی، نازیّت اور
نسل پرستی کو کسی بھی بہانے روکا جا سکے۔
3.
ایک ’’انسانی حلف الفضول‘‘
قائم کرنا تاکہ اخلاقی و انسانی اصولوں کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے اور مجرموں کو
عادلانہ سزائیں دی جائیں۔
4.
’’اعلانِ استنبول‘‘ کے ذریعے
ایک عالمی حقوقی، پارلیمانی و انسانی اتحاد تشکیل دینا تاکہ غزہ پر حملوں کو روکا
جائے اور ان کا اعادہ نہ ہو۔
5. ایک وفد تشکیل دینا جو سربراہانِ مملکت سے ملاقات کر کے
کانفرنس کے مقاصد کے لیے حمایت حاصل کرے۔
6. ایک مضبوط اور مستقل کمیٹی یا ادارہ قائم کرنا جو
کانفرنس کے فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی کرے۔
7. اہلِ غزہ کے نام یہ پیغام پہنچانا: "ہم سب تمہارے
ساتھ ہیں، اے غزۂ عزت و وقار!"
کانفرنس کا پروگرام
یہ
بابرکت کانفرنس بروز ہفتہ 23 اگست 2025 کو، اللہ کے فضل سے، افتتاحی اجلاس کے ساتھ
شروع ہوگی جس میں وفود کے سربراہان اپنے پروٹوکولی خطابات پیش کریں گے۔
اتوار 24
اگست سے جمعرات 28 اگست تک، کل اٹھارہ ورکشاپس ہوں گی جو فلسطین کے اہم موضوعات پر
مرکوز ہوں گی: غزہ کی صورتحال، مسجد اقصیٰ، غربِ اردن اور مجموعی فلسطینی مسئلہ۔
ان
ورکشاپس میں عالمی انسانی ہمدردی کے بڑھتے رجحانات سے فائدہ اٹھانے، اسے سیاسی و
ابلاغی سطح پر استعمال کرنے، اور عملی و قابلِ نفاذ تجاویز وضع کرنے پر کام ہوگا۔
جمعہ 29
اگست 2025 کو، نمازِ جمعہ کے بعد، جامع آیا صوفیا میں کانفرنس کا اختتامی بیان جاری
کیا جائے گا۔
بنیادی نکات
1. پوری امتِ مسلمہ اور انسانیت اعلان کرتی ہے کہ وہ ان
جرائم کو قبول نہیں کرے گی جو ہلاکو اور ہٹلر سے بھی بڑھ گئے ہیں، اور وہ غزہ کو
کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔
2. ہمارا یقین ہے کہ باطل جتنا بھی پھولے، بالآخر مٹ کر
رہے گا، اور حق غالب آ کر رہے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ
فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ﴾ [الأنبیاء:
18].
3. کانفرنس اپنی پوری توانائی بروئے کار لاتے ہوئے فوری
امداد اور عوامی و سیاسی دباؤ کے ذریعے غزہ کے محصورین تک امداد پہنچانے کی کوشش
کرے گی۔
4. کانفرنس اس بات پر زور دیتی ہے کہ اسرائیل کے بائیکاٹ
اور اس پر پابندیوں کا نفاذ اولین ترجیح ہے، جو شریعت، ہیگ ڈیکلریشن، انسانی قوانین
اور اقوام متحدہ کے فیصلوں کی روشنی میں لازم ہے۔
5.
ہمارا پختہ عزم ہے کہ غزہ
کی دوبارہ تعمیر نو کی جائے گی تاکہ وہ اپنی ثابت قدمی اور قربانیوں کی گواہ بنے
اور ایک نئی شان کے ساتھ ابھرے۔
اظہارِ تشکر
آخر میں،
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز اور وقف علمائے اسلام ترکی کی حکومت، عوام، صدر،
استنبول کے گورنر، اور دینی امور کی صدارت سمیت ہر اس ادارے اور فرد کا شکریہ ادا
کرتے ہیں جنہوں نے اس کانفرنس کے انعقاد، مالی معاونت اور تعاون میں حصہ لیا۔
اللہ
تعالیٰ ہم سب کو مظلوموں کی نصرت اور فلسطین کی مدد کے کام میں کامیاب فرمائے۔
والسلام
علیکم ورحمة الله وبرکاته
پروفیسر
ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی
صدرِ
کانفرنس و صدر عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز
جمعہ 26
صفر 1447ھ مطابق 20 اگست 2025ء
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على
الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).