استنبول نے عالمی علماءِ مسلمین کانفرنس کی میزبانی کی: غزہ کی نصرت کے لیے
پچاس کے قریب ممالک سے ڈیڑھ سو علما کی شرکت
شہر
استنبول میں "غزہ: ایک اسلامی و انسانی ذمہ داری" کے عنوان سے عالمی
کانفرنس کا آغاز ہوا، جس میں امت کے بڑے علما کی صفِ اوّل سے تقریباً ڈیڑھ سو شخصیات
نے شرکت کی۔ یہ علما دنیا کے پچاس کے قریب ممالک سے آئے تھے۔ اجتماع سلطان ایوب
جامع مسجد کے صحن میں جمعہ کی نماز کے فوراً بعد منعقد ہوا۔
یہ
کانفرنس عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز نے ترکی میں "وقف علماء
الإسلام" کے تعاون اور ترک صدراتی محکمۂ مذہبی امور کی بروٹوکولی سرپرستی میں
منعقد کی۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ غزہ محض فلسطینیوں کا مقامی مسئلہ نہیں
بلکہ امتِ مسلمہ اور پوری انسانیت کے ضمیر کی امانت ہے۔
استنبول سے علما کی صدا
افتتاحی
خطاب میں محترم شیخ ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی (سیکریٹری جنرل، عالمی اتحاد
برائے مسلم اسکالرز) نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جدید تاریخ کی سب سے
خطرناک آفت ہے، جو ڈھائی ملین انسانوں کو نشانہ بنانے والی کھلی نسل کشی ہے۔ یہ
لوگ بائیس ماہ سے مسلسل بمباری، محاصرے اور بنیادی ضروریات سے محرومی کا شکار ہیں۔
انہوں نے
بین الاقوامی برادری کی خاموشی اور سرکاری سطح پر کمزور مؤقف کی سخت مذمت کی، اور
اس کے برعکس دنیا بھر کے عوامی احتجاج کو سراہا۔ ان کے مطابق غزہ پوری امتِ مسلمہ
اور بنی نوعِ انسان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کانفرنس کا استنبول میں انعقاد اس بات
کی علامت ہے کہ علما فلسطین کے دفاع کے اپنے فریضے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ترکی کے
محکمۂ مذہبی امور کے صدر علی ارباش نے زور دیا کہ جب تک فلسطین میں امن قائم نہیں
ہوگا دنیا میں عالمی امن ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی استحکام فلسطینی عوام کی
تکالیف کے خاتمے سے وابستہ ہے۔ ان کے مطابق محض ہمدردی کافی نہیں بلکہ ایسے عملی
اقدامات ضروری ہیں جو جارحیت روک سکیں اور امداد کی رسائی کو یقینی بنائیں۔ انہوں
نے بچوں اور خواتین کے قتلِ عام پر دنیا کی خاموشی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
کانفرنس کے مقاصد
یہ
کانفرنس غزہ کے ساتھ ہمدردی کو منظم اور عملی جدوجہد میں بدلنے کا ہدف رکھتی ہے،
تاکہ امت اور انسانیت کو اپنے شرعی اور اخلاقی فرائض کا احساس دلایا جا سکے۔ اس کے
نمایاں مقاصد یہ ہیں:
* جارحیت روکنے اور امداد پہنچانے کے لیے محفوظ راستے
کھلوانے کی کوشش۔
* ایک مضبوط اسلامی اتحاد تشکیل دینا جو صیہونی ریاست کی
مجرمانہ پالیسیوں کو روکے اور مزید قتلِ عام نہ ہونے دے۔
* عالمی سطح پر ایک "حلفِ فضول" کی طرز کی تحریک
کا آغاز، تاکہ جنگی مجرموں کو بین الاقوامی قوانین کے ذریعے کٹہرے میں لایا جا
سکے۔
* "اعلانِ استنبول" کے نام سے ایک ایسی دستاویز
مرتب کرنا جو وکلا، پارلیمنٹیرینز اور انسانی اداروں کے لیے حوالہ بنے اور غزہ کو
عالمی انصاف کی علامت بنائے۔
عملی اقدامات
کانفرنس
میں طے پایا کہ درج ذیل عملی اقدامات کیے جائیں گے:
* اعلیٰ سطحی علما کے وفود اسلامی ممالک کے سربراہان سے
ملاقات کریں اور سیاسی و اقتصادی حمایت حاصل کریں۔
* ایک مستقل کمیٹی تشکیل دی جائے جو کانفرنس کی سفارشات پر
عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
* 24 تا 28 اگست کے دوران 18 خصوصی ورکشاپس منعقد ہوں جو
مسئلۂ فلسطین کے شرعی، سیاسی اور انسانی پہلوؤں پر غور کریں۔
کانفرنس
کا اختتامی اجلاس جمعہ 29 اگست کو جامع آیا صوفیہ کبیر میں ہوگا، جہاں علما دنیا
کے سامنے حتمی بیان اور سفارشات پیش کریں گے۔
یوں یہ
کانفرنس محض ایک علامتی اجتماع نہیں رہے گی بلکہ ایک عالمی منبر ثابت ہوگی جو
اعلان کرے گی کہ غزہ امت اور انسانیت کی ذمہ داری ہے اور اس کی نصرت ایسا فرض ہے
جس میں کسی تاخیر کی گنجائش نہیں۔
(ماخذ: الاتحاد)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على
الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).