استنبول میں مسلم اسکالرز کانفرنس: غزہ امت کا مسئلہ اور اس کا تحفظ ودفاع
ملت اسلامیہ کا شرعی و انسانی فریضہ
ہفتہ 23
اگست کی صبح عالمی علما کانفرنس "غزہ: ایک اسلامی و انسانی ذمہ داری" کی
سرگرمیوں کا آغاز قرآنِ کریم کی بابرکت تلاوت سے ہوا، جس نے ماحول کو ایمانی روح
بخشی اور کانفرنس کے اصل مقصد و عظمت کو اجاگر کیا۔
ایمان و قوت سے عزت
کانفرنس
کے صدر اور عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کے سربراہ محترم ڈاکٹر علی محی الدین
قرہ داغی نے افتتاحی خطاب کیا۔ انہوں نے حاضرین خصوصاً ترکی کے صدرِ امورِ دینیہ
ڈاکٹر علی ارباش کو خوش آمدید کہا اور غزہ و فلسطین کی نصرت میں شرکت پر شکریہ ادا
کیا۔
قرہ داغی
نے واضح کیا کہ امت پر فرض ہے کہ وہ غزہ کے مظلوموں کے ساتھ اپنے شرعی و انسانی فریضے
کو ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ امت کی بیداری اور عزت ایمان اور شریعت کی پابندی سے
وابستہ ہے، اور اسلام میں جہاد کا مطلب جارحیت نہیں بلکہ ظلم کو روکنے اور تعدی کو
دفع کرنے کی مشروع تیاری ہے۔
ان کے
مطابق اسرائیلی جارحیت دراصل امت کی کمزوری اور طاقت کے توازن کے بگڑنے کی علامت
ہے۔ عزت صرف اس وقت حاصل ہوگی جب روحانی اور مادی قوت دونوں کو بامعنی طور پر
استوار کیا جائے۔
فلسطین: امت کی عزت کا مسئلہ
اپنے
خطاب میں ترکی کے صدرِ امورِ دینیہ ڈاکٹر علی ارباش نے پچاس سے زائد ممالک سے شریک
علما کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور القدس صرف فلسطینیوں کا مسئلہ
نہیں بلکہ ہر مسلمان کے ایمان اور کرامت کا معاملہ ہے اور ہر انسان کے لیے انصاف
کا سوال ہے۔
انہوں نے
اسرائیلی قبضے کو "خبیث وبا" قرار دیا جو انسانی اقدار کو نگل رہا ہے۔
ان کے مطابق امت کی وحدت ہی واحد راستہ ہے جو فلسطین کو آزاد کر سکتی ہے، جبکہ
انتشار اور اختلاف ظلم کو طول دیتا ہے۔
مزاحمت کا ہتھیار سرخ لکیر
اتحاد کے
نائب صدر شیخ محمد الحسن الددو نے کہا کہ اتحاد کا فلسطین کے ساتھ موقف ہمیشہ واضح
رہا ہے۔ اس کے بیانات و اعلانات نے بارہا واضح کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کا اسلحہ
شرعاً اور قانوناً جائز ہے، اور فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرنا شریعت
اور اخلاق دونوں کے لحاظ سے ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے
کہا کہ اتحاد فوجی ادارہ نہیں بلکہ علمی و دعوتی پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد امت کے
شعور کو بیدار کرنا اور ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔ ان کے مطابق یہ کانفرنس علما کو اپنی
تاریخی ذمہ داری نبھانے اور غزہ کی ثابت قدمی کو سہارا دینے کا موقع فراہم کرتی
ہے۔
غزہ میں ہونے والا المیہ: ایک تہذیبی معرکہ
اتحاد کے
سیکریٹری جنرل ڈاکٹر علی الصلابی نے کہا کہ فلسطینی عوام نہایت کڑے وقت سے گزر رہے
ہیں اور انہیں امت کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے۔ تاریخ میں ہمیشہ علما آزادی کی
تحریکوں کے قائد رہے ہیں۔
انہوں نے
کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف سیاسی یا عسکری معرکہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی
اور عالمی جدوجہد ہے جو عالمی نظام کی حقیقت اور اس کی صیہونی حمایت کو بے نقاب
کرتی ہے۔ ان کے مطابق فلسطینی مزاحمت نے اپنے شعور اور قیادت سے امت کو بیدار کیا
ہے اور بہت سے سازشوں کا پردہ چاک کیا ہے۔
انہوں نے
زور دیا کہ علما اور فکری رہنما اس بڑھتے ہوئے شعور کو ایک پائیدار بیداری کے
منصوبے میں بدلیں جو امت کو اس کا قائدانہ مقام دوبارہ عطا کرے۔
دیگر
شرکاء کی گفتگو
شیخ
عبدالوهاب اكنجی (چیئرمین کمیٹیِ منتظمہ) نے کہا کہ یہ کانفرنس ایک تاریخی موڑ ہے
جس کا مقصد غزہ کی نصرت کے عملی راستے تلاش کرنا اور اسرائیلی جرائم کو بے نقاب
کرنا ہے۔
ڈاکٹر
نصر اللہ حجی مفتي أوغلو (صدر وقف علماء الإسلام) نے کہا کہ علما ایک حقیقی امتحان
سے گزر رہے ہیں، اور ان کی مخلصانہ تحریک امت کو جوڑ سکتی ہے اور عوام کو حرکت دے
سکتی ہے۔
شیخ احمد
حسن طہ (صدر، مجمع الفقه الإسلامي العراق) نے اتحادِ صف اور اختلافات کو ختم کرنے
پر زور دیا اور مغربی میڈیا کی یک طرفہ صیہونی حمایت کو خطرناک قرار دیا۔
شیخ
مروان ابو عيسى (صدر، کمیٹی برائے القدس و فلسطین) نے کہا کہ اہلِ غزہ تین متوازی
جنگوں کا سامنا کر رہے ہیں: نسل کشی، محاصرہ اور بے حسی۔
کانفرنس کا پیغام
اجلاس کے
اختتام پر ایک مؤثر بصری رپورٹ پیش کی گئی جس میں 7 اکتوبر سے اسرائیلی جرائم کی
تصویریں اور شواہد دکھائے گئے۔ اس نے غزہ کی انسانی المیہ پر روشنی ڈالی اور علما
کے کردار کو اجاگر کیا۔ یہ اس امر کی تجدید تھی کہ غزہ امت کی ذمہ داری اور اس کا
تاریخی امتحان ہے۔
(ماخذ: الاتحاد)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على
الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).