بسم اللہ
الرحمٰن الرحیم
امت مسلمہ انسانی برادری اور دنیا کے تمام آزاد لوگوں کے نام پیغام!
اپنی شرعی
و انسانی ذمہ داری اور ایک جسم کے دکھ و درد کو سامنے رکھتے ہوئے، عالمی اتحاد
برائے مسلم اسکالرز نے وقف علماء اسلام ترکی کے تعاون سے یہ بابرکت کانفرنس منعقد
کی ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ یہ امت اور اس کے علما پر واجب ہے کہ وہ غزہ و فلسطین کے
ساتھ کھڑے ہوں، ان کے عادلانہ مقدمات کے دفاع کی امانت اٹھائیں اور اپنی پوری قوت
و عزم سے مظلوم عوام کی نصرت کریں۔
آج ہم
اپنی تاریخ ہی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اور خطرناک سانحہ کے سامنے
کھڑے ہیں: اجتماعی قتلِ عام کی وہ ہولناک کاروائی جو ہمارے غزہ کے ڈھائی ملین سے زیادہ
اہلِ وطن کو نشانہ بنا رہی ہے۔ وہ ہر طرح کے مہلک ہتھیاروں سے قتل کیے جا رہے ہیں،
بھوک و پیاس میں گھیرے گئے ہیں، بیماری اور محرومی کا شکار ہیں — اور یہ سب کچھ
مسلسل بائیس ماہ سے جاری ہے!
تاریخ میں
پہلی مرتبہ دنیا کے سامنے ایک صہیونی دہشت گرد حکومت کھلم کھلا اعلان کردہ منصوبے
کے تحت پوری قوم کو مٹانے پر اتر آئی ہے۔ نہ مسجد بچی نہ گرجا، نہ اسپتال نہ
اسکول، نہ گھر سلامت رہا نہ کیمپ۔ زندگی کی تمام بنیادوں کو اجاڑ کر غزہ کو موت کا
میدان بنا دیا گیا ہے۔
یہ جرائم
صرف غزہ تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے اپنے توسیعی منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے
اردن، مصر اور دیگر ممالک کو بھی دھمکیاں دیں، تاکہ اپنے باطل خواب ’’ارض المیعاد:
اسرائیل کبری‘‘ کو پورا کریں۔ اس دوران قبلہ اول، مسجد اقصیٰ بار بار کھلی جارحیت
اور منظم منصوبوں کا نشانہ بن رہا ہے تاکہ اسے گرا کر نام نہاد ہیکل تعمیر کیا جا
سکے۔
اے
انسانو! یہ محض ایک جرم نہیں بلکہ نسل کُشی اور نوآبادیاتی توسیع کا جُرم ہے، جس
نے عالمی قوانین کو تماشا بنا دیا، انسانیت کے قدروں کو پامال کر دیا اور اقوامِ
متحدہ کے فیصلوں کو بے وزن کر دیا۔ اقوامِ متحدہ کی ایجنسی ’’اونروا‘‘ کو محصور و
مفلوج کر دیا گیا۔ نہ قانون بچا، نہ انصاف قائم رہا، نہ انسانیت کی عزت۔ اس سے بڑھ
کر یہ سانحہ ہے کہ بڑی طاقتوں کی سرپرستی میں یہ جرائم ہو رہے ہیں، بالخصوص امریکہ
جو اسرائیل کو مہلک اسلحہ فراہم کرتا ہے اور سیاسی و سفارتی طور پر ڈھانپتا ہے۔
مگر دوسری
طرف دنیا کی آزاد اقوام اٹھ کھڑی ہوئی ہیں، سراپا احتجاج ہیں اور ان جرائم کو رد
کر رہی ہیں۔ البتہ ہماری اسلامی و عربی امت کسمپرسی، بے عملی اور بعض حکومتوں کی
کھلی سازش کا شکار ہے۔
محترم
حاضرین! اس غیر معمولی المناک صورتحال میں، عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز نے وقف
علماء اسلام اور مخلص علما کے ایک منتخب گروہ کے ساتھ یہ کانفرنس منعقد کی ہے جس
کا عنوان ہے: "غزہ، ایک اسلامی اور انسانی ذمہ داری"۔ اس میں پچاس سے
زائد ممالک کے ڈیڑھ سو سے زیادہ جلیل القدر علما جمع ہیں تاکہ کلمۂ حق بلند کریں،
اپنا شرعی و تاریخی فریضہ ادا کریں اور واضح کریں کہ غزہ صرف فلسطین کا مسئلہ نہیں
بلکہ پوری امت اور پوری انسانیت کا مسئلہ ہے، جسے کوئی بھی ترک یا سودا نہیں کر
سکتا۔
کانفرنس کے مقاصد:
1. اسلامی و انسانی امت کو متحرک کرنا تاکہ جارحیت روکی جا
سکے، راستے کھولے جائیں اور اہلِ غزہ تک ہر ضروری امداد پہنچائی جا سکے۔
2.
ایک مضبوط اسلامی اتحاد
قائم کرنا تاکہ کسی بھی پردے میں نسل کُشی، نازی ازم یا نسل پرستی کو روکا جائے
اور صہیونی توسیع کے عزائم کا خاتمہ کیا جا سکے۔
3. ایک ’’انسانی حلف الفضول‘‘ کی تشکیل، تاکہ اخلاقی و
انسانی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے اور مجرموں کو انصاف کے مطابق
سزا دی جا سکے۔
4. ’’اعلان استنبول‘‘ کے تحت انسانی، پارلیمانی اور حقوقی
اداروں کا عالمی اتحاد تشکیل دینا تاکہ غزہ پر جارحیت روکی جا سکے اور دوبارہ نہ
دہرائی جا سکے۔
5. ایک وفد کی تشکیل جو سربراہانِ مملکت سے ملاقات کر کے
کانفرنس کے مقاصد کو عملی جامہ پہنائے۔
6.
ایک مستقل اور طاقتور
ادارہ یا کمیٹی بنانا جو کانفرنس کے فیصلوں پر عمل درآمد کرے۔
7.
اہلِ غزہ تک یہ پیغام
پہنچانا کہ: "ہم سب تمہارے ساتھ ہیں، اے غزہ عزت کی علامت!" اور یہ
اعلان کہ تمہاری مزاحمت تمام آسمانی مذاہب، بین الاقوامی و انسانی قوانین کے مطابق
جائز ہے۔ تمہاری فتح دراصل حق، آزادی اور انصاف کی فتح ہے اور جارحیت کی توسیع کی
شکست۔
پروگرام:
کانفرنس
کا افتتاح اس بابرکت جمعہ کے دن سلطان ابو ایوب انصاریؓ کے تاریخی جامع میں ہوا۔
پھر ہفتہ
23 اگست 2025 کو معزز مہمانان و علما کے پروٹوکولی خطابات سے باضابطہ آغاز ہوگا۔
اتوار 24
اگست سے جمعرات 28 اگست تک اٹھارہ ورکشاپس ہوں گی، جن میں فلسطین کے مرکزی مسائل زیر
بحث آئیں گے: زخمی غزہ، مسجد اقصیٰ، صامدہ مغربی کنارہ، اور مجموعی فلسطینی قضیہ۔
ان ورشاپس میں بڑھتی ہوئی عالمی ہمدردی کو سیاسی و میڈیا سطح پر استعمال کرنے کی
راہیں بھی تلاش کی جائیں گی تاکہ قابلِ عمل تجاویز سامنے لائی جا سکیں۔
جمعہ 29
اگست 2025 کو جامع آیا صوفیہ میں نمازِ جمعہ کے بعد اختتامی بیان جاری کیا جائے
گا۔
جمعرات
28 اگست روزہ و دعا کے طور پر منایا جائے گا۔
کانفرنس کے مؤکد نکات:
1.
امت اسلامی و انسانی اعلان
کرتی ہے کہ یہ جرائم کسی صورت قبول نہیں، یہ ہلاکو اور ہٹلر کے مظالم سے بڑھ گئے ہیں،
اور غزہ کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
2.
ہمیں یقین ہے کہ باطل کتنا
ہی پھولے، آخرکار مٹ کر رہے گا، اور حق غالب ہو کر رہے گا۔
3.
کانفرنس فوری ریلیف، سرحدیں
کھلوانے اور امداد کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے کوشش کرے گی۔
4. مکمل بائیکاٹ
اور پابندیاں عائد کرنے کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔
5.
غزہ کی تعمیر نو ہمارا
روشن مقصد ہے تاکہ یہ شہر اپنی قربانیوں کا عظیم شاہد بنے۔
آخر میں
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز اور وقف علماء اسلام، ترکی کے صدر، حکومت اور
عوام، استنبول کے گورنر اور دینی امور کی صدارت سمیت تمام معاونین کا شکریہ ادا
کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو بہترین جزا عطا فرمائے اور اس کانفرنس کو غزہ و اقصیٰ
کی نصرت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
والسلام
علیکم ورحمة الله وبرکاته
پروفیسر
ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی
صدرِ
کانفرنس و صدر، عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز
جمعہ 28 صفر 1447ھ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على
الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).