بسم الله الرحمن الرحيم
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کی طرف سے اسرائیلی
جارحیت کی مذمت اور ریاستِ قطر کے ساتھ یکجہتی
کا اعلان. (بیان)
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز سخت ترین الفاظ میں اس نئی دہشت
گردانہ جارحیت کی مذمت کرتا ہے جو غاصب اسرائیلی قبضے نے کی ہے، جس کا مظہر آج
منگل 09 ستمبر کو دارالحکومت دوحہ میں حماس کے سیاسی دفتر کے وفد کی رہائشی
عمارتوں کو نشانہ بنانا ہے۔
اتحاد اپنے مؤقف پر ثابت قدمی کے ساتھ برادر ملک قطر کے شانہ
بشانہ کھڑا ہے، اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار
کرتا ہے۔ ساتھ ہی قطر کے باوقار مؤقف اور اس کے ان اقدامات کو سراہتا ہے جو اس نے
مذاکرات و مکالمے کی میزبانی کے ذریعے فلسطینی نہتے عوام پر ڈھائے جانے والے قتلِ
عام اور نسل کشی کو روکنے کے لیے کیے۔
اتحاد اس بزدلانہ حملے کی ناکامی اور حماس کے وفد کے بچ جانے پر
اپنی گہری خوشی کا اظہار کرتا ہے، جو دراصل قبضے کی غرور و تکبر اور جارحیت پر ایک
نئی شکست ہے۔
یہ مجرمانہ حملہ نہ صرف ایک جنگی جرم ہے جو قبضے کے سیاہ ریکارڈ
میں مزید اضافہ ہے، بلکہ یہ ریاست قطر کی خودمختاری پر صریح حملہ اور بین الاقوامی
قوانین و روایات کو کھلا چیلنج بھی ہے، نیز دوحہ کے اس انسانی کردار کو نشانہ
بنانا ہے جو اس نے حق کو قائم کرنے اور مظلوموں کی مدد کے لیے ادا کیا۔
اتحاد اس بے شرمناک حملے کو قطر پر براہِ راست وار قرار دیتے
ہوئے، جو خون ریزی روکنے اور مذاکرات کو سہارا دینے میں مصروف ہے، یہ واضح کرتا ہے
کہ یہ اقدام غاصب قبضے کے حقیقی دہشت گرد چہرے کو بے نقاب کرتا ہے، اور یہ ثابت
کرتا ہے کہ وہ نہ بین الاقوامی قانون کا لحاظ کرتا ہے، نہ سفارتی آداب کا، بلکہ
بلا روک ٹوک اپنی درندگی جاری رکھتا ہے۔
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز اس مجرمانہ فعل کی
مذمت کرتے ہوئے:
1- عالمی
برادری، بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ
فوری طور پر حرکت میں آئیں اور اسرائیل کو اس کے بڑھتے ہوئے جرائم پر جواب دہ بنائیں۔
2- عرب
و اسلامی ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کے سامنے متحد اور
مضبوط موقف اختیار کریں، ریاست قطر کی خودمختاری کا دفاع کریں اور امتِ مسلمہ کی
عزت و وقار کی حفاظت کریں۔
کیونکہ آج قطر نشانہ ہے، اور کل کوئی اور عرب یا اسلامی
دارالحکومت ہو سکتا ہے جو ان کے احکام نہ مانے۔
3- واضح
کرتا ہے کہ ان جرائم پر عالمی برادری کی خاموشی دراصل قبضے کے ساتھ ملی بھگت ہے
اور مزید خون ریزی کے دروازے کھولنے کے مترادف ہے۔
ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صہیونی قابض ریاست نے کوئی بین
الاقوامی قانون ایسا نہیں چھوڑا جسے اپنے پاؤں تلے نہ روند ڈالا ہو، کوئی اخلاقی
اصول ایسا نہیں جسے پامال نہ کیا ہو، اور کوئی انسانی قدر ایسی نہیں جسے نہ توڑا
ہو—یہ سب کچھ سرکاری امریکی حمایت کے سائے میں ہورہا ہے۔
ہم اس امر کا بھی اعلان کرتے ہیں کہ اس قسم کے جرائم امت کو صرف
اس بات پر مزید ثابت قدم کریں گے کہ وہ فلسطینی کاز کی حمایت جاری رکھے، اور ریاست
قطر کے ساتھ کھڑی ہو، تاکہ اس کی خودمختاری اور اس کے اعلیٰ انسانی کردار پر کسی
بھی حملے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
﴿وَسَيَعْلَمُ
الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ﴾
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز
09 ستمبر 2025ء
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على الترجمة الكاملة للخبر باللغة
العربية، اضغط (هنا).