عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کی جانب سے
دارالافتاء لیبیا کے رکن، داعیِ اسلام شیخ احمد میلاد قدور کے انتقال پر تعزیت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَا
أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً
مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي﴾ (الفجر:
27–30)
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز دارالافتاء لیبیا کے رکن، داعیِ
اسلام شیخ احمد میلاد قدورؒ کے انتقال پر لیبیائی عوام اور پوری امتِ مسلمہ کی
خدمت میں دلی تعزیت اور خالص ہمدردی پیش کرتا ہے۔ مرحوم ایک جلیل القدر عالم اور
ربانی داعی تھے، جن میں پختہ علمی بصیرت، دعوت میں اخلاص اور علما کی تواضع جمع تھی۔
وہ فتویٰ کے میدان میں بھی مرجع، وعظ تقریر کے میدان میں چراغِ راہ اور طلبۂ علم کی
کئی نسلوں کے مربی تھے۔
مرحوم نے لیبیا کے اندر اور باہر مساجد، تعلیمی اداروں، منابر
اور ذرائع ابلاغ میں نمایاں نقوش چھوڑے۔
ولادت اور ابتدائی تعلیم:
شیخ احمد میلاد قدور 1936ء میں طرابلس شہر کے علاقے سوق الجمعہ
(محلہ شط الہنشیئر) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے علمی سفر کا آغاز کم عمری میں کیا،
قرآنِ کریم حفظ کیا اور اپنی ابتدائی تعلیم شیخ الطاہر عبدالمولیٰ اور شیخ شکری بن
احمد بن حمادیؒ کے زیرِ تربیت حاصل کی۔
حصولِ علم اور علمی سفر:
1949ء میں زلیتن شہر کے المعہد الأسْمَری میں
دینی تعلیم کا آغاز کیا، جہاں شرعی اور لسانی علوم پڑھے اور شیخ الطیب الطاہر
المصراتی، شیخ منصور ابو زبیدہ اور شیخ ابو بکر حمیر جیسے اکابر علما سے استفادہ کیا۔
تاہم بعض سماجی حالات اور والد محترمؒ کے انتقال کے باعث اس مرحلے پر تعلیم جاری
نہ رکھ سکے۔
1957ء میں طرابلس کے جامع احمد باشا میں
دوبارہ علمی سفر شروع کیا، جہاں انہوں نے ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم جاری رکھی اور
شیخ علی الغریانی، شیخ عبدالسلام البیزنطی، شیخ خلیل المزوغی اور شیخ علی حسین
المسلاتی جیسے ممتاز علما سے فیض پایا۔
1971ء میں جامعہ میں داخلہ لیا اور 1974ء میں شریعتِ اسلامی میں
لیسانس کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران شیخ مصطفیٰ التریکی، شیخ عمر الجنزوری، شیخ الطیب
النعاس، ڈاکٹر احمد الخلیفی اور ڈاکٹر محمد الجربی جیسے جید اساتذہ سے تعلیم حاصل
کی۔
علمی و دعوتی ذمہ داریاں
مرحوم نے متعدد علمی و دعوتی مناصب اور خدمات انجام دیں، جن
میں نمایاں یہ ہیں:
·
1977ء میں
طرابلس کے معہد الامامہ والخطابہ میں مدرس، اور 1983ء میں اس کے مدیر مقرر ہوئے۔
·
1985ء میں
مدرسۃ الفنون والصنائع الاسلامیہ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔
·
1970ء
سے طرابلس کی مساجد میں جمعہ کے خطیب اور واعظ رہے، اور 1974ء تک مساجد کے نگران
(مفتش) بھی رہے۔
·
1976ء
سے 1980ء تک حرمِ مکی اور مسجدِ نبویؐ میں دروسِ علمی دینے کی ذمہ داری انجام دی۔
·
1982ء
سے 1985ء کے درمیان جمعیۃ الدعوۃ الاسلامیہ کی جانب سے پرتگال، فرانس، جنوبی کوریا
اور سری لنکا سمیت متعدد ممالک میں دعوتی خدمات کے لیے بھیجے گئے۔
·
2005ء
سے 2020ء تک ریڈیو طرابلس الغرب پر پروگرام “الموعظۃ الحسنۃ” پیش کیا۔
·
2012ء
سے دارالافتاء لیبیا کے رکن مفتی رہے۔
تعلیم و وعظ میں خدمات
مرحوم رمضان المبارک میں شارع عمر المختار پر واقع جامع السنوسیہ
میں دروسِ وعظ دیتے رہے اور جامع الناقہ میں تدریس انجام دی۔ ان کے زیرِ سایہ
متعدد طلبۂ علم اور علما تیار ہوئے، جن کی علمی و دعوتی زندگی پر ان کے اثرات نمایاں
رہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مرحوم کو اپنی وسیع رحمت
میں جگہ دے، علم و دعوت کی خدمات پر بہترین بدلہ عطا فرمائے، سوالِ قبر میں ثابت
قدم رکھے، انہیں انبیاء اور صالحین کے ساتھ فردوسِ اعلیٰ میں مقام عطا فرمائے، اور
ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور محبین کو صبر و تسلی نصیب فرمائے۔
إنا لله وإنا إليه راجعون
دوحہ: 11 رجب 1447ھ
بمطابق: 31 دسمبر 2025ء
ڈاکٹر علی محمد الصلابی
پروفیسر ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی
سیکریٹری جنرل صدر
ـــــــــــــــــــــــــــ
* للاطلاع على الترجمة الكاملة للنعي باللغة
العربية، اضغط (هنا).