صدر اتحاد کی نائب
صدر کے ساتھ ایک اہم علمی نششت میں شرکت
جمعرات کی شام 31 دسمبر 2025 کو
نواکشوط میں ایک باوقار علمی نشست کی میں صدر اتحاد کی شرکت ہوئی ، جہاں مجھے اپنے
عزیز بھائی اور رفیقِ سفر محترم شیخ محمد الحسن اس حوالے سے صدر اتحاد نے اپنے
شوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا کہ شیخ الددو کی میزبانی میں ان کی علم و وقار سے معمور
مجلس میں مجھے شرکت کا شرف ملا۔ اس مجلس میں علما، مفکرین اور شرعی علوم کے طلبہ کی
ایک منتخب جماعت موجود تھی۔ یہ نشست میری موریتانیہ کی اس زیارت کے ضمن میں تھی جس
کا مقصد وہاں کے علما سے علمی رابطہ قائم کرنا اور ان کی علمی و تربیتی کاوشوں کا
مشاہدہ کرنا تھا۔
اس ملاقات میں مجھے موریتانیہ کی
اصیل محظَری روایت کی روح صاف محسوس ہوئی: راسخ علم، بلند اخلاق، اور وحیِ الٰہی
اور اس کے مقاصد سے گہرا اور سچا تعلق۔ مجلس کا آغاز کتابِ اللہ عزوجل کی تلاوت سے
ہوا—ایسی تلاوت جس نے مجھے یاد دلایا کہ یہی قرآن ہر تمکین کی اصل ہے، اور یہ کہ
امت صرف اسی کے فہم، عمل اور سچی ذمہ داری کے ساتھ اٹھانے سے ہی سربلند ہو سکتی
ہے۔
مجھے محظرة خیر الورى ﷺ کے طلبہ کی
علمی مداخلات سن کر خوشی ہوئی۔ یہ مداخلات قرآن کی تعلیم، حفاظ اور مجازین کی تیاری
میں طویل محنت کے ثمرات کی عکاس تھیں، اور اس حقیقت کی گواہ کہ یہ علمی مرکز آج کے
پُرچیلنج دور میں بھی ثابت قدمی کے ساتھ اپنا پیغام ادا کر رہا ہے—ایسے وقت میں جب
علم پر صبر کم ہوتا جا رہا ہے۔
اپنی گفتگو میں میں نے پرتپاک
استقبال اور خلوصِ جذبات پر دلی تشکر کا اظہار کیا، اور علم، عوام اور موقف—تینوں
اعتبار سے موریتانیہ پر فخر کا اعلان کیا؛ بالخصوص قضیۂ فلسطین کی حمایت میں اس
کے واضح مؤقف پر۔ میں اسے بلا تردد امتِ مسلمہ کا اوّلین مرکزی مسئلہ سمجھتا
ہوں—وابستگی کی صداقت کا معیار اور التباس کے زمانے میں موقف کی میزان۔
میں نے سورۂ اسراء کی ابتدائی آیات
پر بھی توقف کیا، کیونکہ ان میں ربانی بشارتیں اور ثابت الٰہی سنن ہیں جو بتاتی ہیں
کہ ظلم قائم نہیں رہتا، انجام حق ہی کا ہوتا ہے، اور آج فلسطین کے قضیے کی عدل مندی
پر عالمی شعور میں جو اضافہ دکھائی دے رہا ہے وہ محض عارضی نہیں، بلکہ—اللہ کے اذن
سے—ایک گہرے تبدیلی کی تمہید ہے، بشرطیکہ امت اپنی ذمہ داری ادا کرے۔
ان شاء اللہ، میں محظرة خیر الورى
ﷺ کے قیام کی دسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونے والی قرآنی تقریب میں بھی شریک
ہوں گا—یہ محض ظاہری جشن نہیں بلکہ معنوی پیغام ہے: اہلِ قرآن کی تکریم، نئی نسلوں
کو قرآن سے جوڑنا، اور اس حقیقت کو راسخ کرنا کہ جو امت اپنے رب کی کتاب کی حفاظت
کرتی ہے وہ کبھی نہیں مرتی۔
اسی طرح جمعہ کی شام ایک علمی
نشست میں بھی شرکت ہوگی جس کا عنوان ہے: “اسلامی صیرَفہ کے فقہی معالم”۔ یہ موضوع
میں فقهِ واقع کے عین قلب میں سمجھتا ہوں، کیونکہ آج معیشت اقداری کشمکش کا ایک
بڑا میدان ہے، اور ایسے راسخ فقه کی ضرورت ہے جو شریعت کے مقاصد اور معاصر مالی
نظام کی پیچیدگیوں کے درمیان توازن قائم کر سکے۔
میرے نزدیک یہ زیارت نہ کوئی
پروٹوکول ہے اور نہ رسمی مجاملت؛ بلکہ ایک علمی و رسالی ربط ہے، اور اس امر کی تاکید
کہ امت کی وحدت علما کی وحدت سے شروع ہوتی ہے۔ علم جب امت کے مسائل سے کٹ جائے تو
اپنی روح کھو دیتا ہے، اور جب ان سے جُڑ جائے تو نور اور ہدایت بن جاتا ہے۔
واللہ من وراء القصد۔