بحث وتحقیق

تفصیلات

موریتانیہ میں محظرة خیر الورى ﷺ کے قیام کی دسویں سالگرہ پر 150 حفاظ و مجازین کی دستار بندی.

موریتانیہ میں محظرة خیر الورى ﷺ کے قیام کی دسویں سالگرہ پر 150 حفاظ و مجازین کی دستار بندی.

شیخ قرہ داغی اور شیخ الددو کی شرکت

 

موریتانیہ میں محظرة خیر الورى ﷺ نے جمعرات کی شام، یکم جنوری 2026ء کو اپنے قیام کی دسویں سالگرہ کے موقع پر ایک پُروقار قرآنی تقریب منعقد کی، جس میں قرآنِ کریم کے حفاظ کی پانچویں جماعت اور سندِ متصل کے ساتھ اجازت یافتہ (مجازین) کی چوتھی جماعت کی تکریم کی گئی۔ اس موقع پر مجموعی طور پر 150 حفاظ و مجازین کی دستار بندی عمل میں آئی۔ تقریب کا عنوان تھا: “یہی اللہ کے اہل اور برگزیدہ جماعت ہیں”۔

اس جماعت کو شہید ڈاکٹر محمد الامین محمد المصطفیٰ کے نام سے ان کی علمی و دعوتی خدمات کے اعتراف اور خراجِ تحسین کے طور پر۔ موسوم کیا گیا،

یہ تقریب دو جلیل القدر علما کی علمی نگرانی میں منعقد ہوئی:

·      ڈاکٹر علی محیی الدین قرہ داغی، صدر: عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز

·     اور محترم شیخ محمد الحسن الددو، نائب صدر: عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز، اور سربراہ: مرکزِ تکویـن العلماء (موریتانیہ)

تقریب میں ملک کے ممتاز علما، محظرة کے مشایخ و اساتذہ، انتظامی و تعلیمی عملہ، وزارتِ امورِ اسلامی و تعلیمِ اصیلہ کے نمائندے، اور متعدد فلاحی و قرآنی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

قرآنی پیغامات اور مؤثر خطابات

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد حفاظ و مجازین کی منتخب تلاوتیں، محظرة کے تعارفی مظاہر، اور رسمی خطابات پیش کیے گئے۔

اپنے خطاب میں محترم شیخ علی قرہ داغی نے قرآنِ کریم کے حفظ کو عظیم شرف اور دوہرا اجر قرار دیا، اور اس بات پر زور دیا کہ اہلِ قرآن کی حقیقی تکریم قرآن پر عمل، اس کی دعوت، اور اس کے قضايا کی نصرت میں ہے۔

انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو تعلیم، رہنمائی اور دین کی تمکین میں اپنا کردار ادا کرنے کی تلقین کی، اور فرمایا کہ حفاظِ قرآن ایک عظیم امانت کے حامل ہیں، جن پر امت کو جہالت اور پسماندگی سے نکالنے اور زمین میں خلافت کے فریضے کی ادائیگی کی شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ شریعت نے قرآن کے حاملین کے لیے ایک خاص میزان اور کردار مقرر کیا ہے، جس میں کوتاہی جائز نہیں، اور امت کی حقیقی ترقی کتابِ اللہ کی طرف سچی واپسی اور اس کے قضايا کے دفاع ہی سے ممکن ہے۔

دس سالہ خدمات کا سفر

محظرة کے مدیر محترم شیخ موسیٰ اعمر نے کہا کہ یہ تقریب اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کہ محظرة خیر الورى ﷺ کے قیام کو پورے دس برس مکمل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محظرة نے ابتدا ہی سے قرآنِ کریم اور اس کے علوم کی تعلیم، اور اس کے اخلاق کے ذریعے تزکیۂ نفس کو اپنا نصب العین بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دس برسوں میں محظرة سے تقریباً 800 حفاظ و مجازین فارغ التحصیل ہو چکے ہیں، درجنوں علمی و تربیتی سرگرمیاں اور کورسز منعقد کیے گئے، اور مختلف عمروں کے سینکڑوں طلبہ کی تربیت و سرپرستی کی گئی، تاکہ فتنوں اور شبہات کے مقابلے میں انہیں ایک محفوظ تربیتی حصار فراہم کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک محظرة سے حفاظ کی پانچ جماعتیں اور مجازین کی چار جماعتیں فارغ ہو چکی ہیں، نیز تخصصی حلقات بھی قائم ہیں، جن میں قراءاتِ سبعہ میں شاطبیہ کا حلقہ شامل ہے۔ موجودہ جماعت میں 80 حفاظ اور 61 مجازین شامل ہیں، جنہیں امام نافعؒ سے مروی قراءتِ ورش اور قالون کے ذریعے سندِ متصل کے ساتھ اجازت حاصل ہے۔

اعزاز و تکریم

تقریب کے اختتام پر محظرة کے متعدد اساتذہ اور انتظامی عملے کو اعزازات سے نوازا گیا، نیز فارغ التحصیل حفاظ و مجازین کی دستار بندی کی گئی۔ یہ روحانی ماحول قرآنِ کریم اور اس کے حاملین کی عظمت کا مظہر تھا، اور کتابِ اللہ کی خدمت اور اس کے علوم کی اشاعت کے محظرة کے پیغام کو مزید مستحکم کرتا تھا۔

(ماخذ: عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز)

 

ـــــــــــــــــــــــــــ

* للاطلاع على الترجمة الكاملة للخبر باللغة العربية، اضغط (هنا).




منسلکات

التالي
مرکزِ تکویـن العلماء (موریتانیہ) کی جانب سے عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کے صدر محترم شیخ علی قرہ داغی کے اعزاز میں علمی و استقبالیہ نشست
السابق
صدر اتحاد کی نائب صدر کے ساتھ ایک اہم علمی نششت میں شرکت

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں